خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 466
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۶ جلد اول لاہور نے تو اس سے بھی بڑھ کر کمال کیا اور اخبار عام لاہور میں لکھ دیا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس بات کا پتہ بھی نہیں کہ کون خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔جب اس صریح جھوٹ پر نوٹس لیا گیا تو ڈاکٹر صاحب اوّل الذکر مضمون کے راقم نے ۲ / اپریل کے پیغام میں شائع کیا کہ میری مراد اس فقرہ سے یہ تھی کہ سمجھدار لوگوں میں سے زیادہ حصہ نے بیعت نہ کی اور یہ سمجھداری کا فقرہ ایسا گول مول ہے کہ اس کی تشریح در بطن شاعر ہی رہ سکتی ہے دوسرے لوگ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔کیونکہ ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ جو لوگ میرے ہم خیال ہیں وہ سمجھدار ہیں اور دوسرے لوگ ناسمجھ۔لیکن اگر سمجھ کا کوئی معیار ہے تو ہر ایک معیار کے مطابق ہم بتا سکتے ہیں کہ نہ صرف زیادہ لوگوں نے بلکہ بہت زیادہ لوگوں نے بیعت اختیار کی۔راقم مضمون نے اور اس کے مضمون کو شائع کر کے پیغام نے ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے اس جھوٹ کی خود ہی تر دید کی کیونکہ اس نے لکھا کہ مجمع حاضر الوقت یا انصار اللہ تھے یا جٹ جو بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اور جنہوں نے فوراً بیعت کر لی۔وہ لوگ انصار اللہ تھے یا کون اس کا سوال نہیں۔جولوگ بھی تھے خود پیغام کی روایت کے مطابق نہ صرف انہوں نے بیعت کی بلکہ وہ بیعت کے لئے تڑپ رہے تھے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ نے صریح اور بالکل صریح جھوٹ لکھا تھا کہ کثیر التعداد حاضرین کو اس امر کا علم بھی نہ تھا کہ خلیفہ کون ہوا ہے۔پیغام کے مضمون نگار کا یہ جھوٹ کہ کثیر التعداد بیعت کنندگان میں سے انصار اللہ تھے صرف اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی کل تعداد پونے دوسو سے کم تھی لیکن سب انصار اللہ اُس وقت قادیان میں موجود نہ تھے حالانکہ خود انہی کے بیان کے مطابق اُس وقت اڑھائی ہزار کے قریب لوگ قادیان میں موجود تھے۔انصار اللہ پر سازش کا جھوٹا الزام دوسرا طریق لوگوں کو بہکانے کا یہ اختیار کیا گیا کہ انصار اللہ کی نسبت مشہور کیا جانے لگا کہ انہوں نے سازش کر کے یہ کام کرایا ہے۔حالانکہ انصاراللہ کی کل جماعت سارے ہندوستان میں پونے دوسو سے کم تھی۔پس اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ انصار اللہ کی سازش تھی تو سو ڈیڑھ سو آدمی اپنی رائے کا کیا بوجھ ڈال سکتا تھا۔اڑھائی ہزار لوگوں کی