خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 461

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۱ جلد اول تا پورے طور پر مشورہ ہو سکے۔ظہر تک قریباً ہزار آدمی سے زیادہ مختلف جماعتوں سے پہنچ گیا اور ایک بڑا مجمع ہو گیا۔* اپنے رشتہ داروں سے مشورہ ظہر کے بعد میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور ان سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔بعض نے رائے دی کہ جن عقائد کو ہم حق سمجھتے ہیں ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئے اور ضرور ہے ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں۔مگر میں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال رکھنا چاہئے وہ اتفاق ہے خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے۔پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلیم کر لیں تو پھر مناسب یہ ہے کہ اول تو عام رائے لی جاوے اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جاوے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر یہ بھی وہ قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہل بیت نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔یہ فیصلہ کر کے میں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔مولوی محمد علی صاحب اور میں باہر آیا تو مولوی محمد علی صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ان کے ساتھیوں سے گفتگو ہیں۔میں نے اُن کو بلوا لیا اُس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب، صاحب خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی۔میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ لوگ بحث نہ کریں صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ نہیں ابھی کچھ بھی مجھے ایسا ہی یاد ہے کہ یہ گفتگو ہفتہ کو ہوئی لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمعہ کو ہی یہ مشورہ بھی ہوا تھا۔