خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 462

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۲ جلد اول نہ ہو۔کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اُس پر عمل کیا جاوے۔میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر میں نے اُنکو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا ؟ اگر کثرتِ رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرتِ رائے پر فیصلہ نہ ہو۔درمیان میں کچھ عقائد پر بھی گفتگو چھڑ گئی جس میں مولوی سید محمد احسن صاحب نے نبوت مسیح موعود علیہ السلام پر خوب زور دیا اور مولوی محمد علی صاحب سے بحث کی اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو حلف دی جاوے تو وہ کبھی اس سے انکار نہ کریں گے۔مگر میں نے اس بحث سے روک دیا کہ یہ وقت اس بحث کا نہیں۔اس وقت جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی فکر ہونی چاہئے۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا اور باہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حاضر الوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہو گیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے آپ لوگ کسی امر کو طے نہیں کرتے اور جماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چل کر جو لوگ موجود ہوں اُن سے مشورہ لے لیا جاوے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کسے منتخب کریں گے۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے یعنی وہ آپ کو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس پر میں اتفاق سے مایوس ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے کیونکہ باوجود اس فیصلہ کے جو میں اپنے دل میں کر چکا تھا میں نے دیکھا کہ یہ لوگ صلح کی طرف نہیں آتے اور مولوی صاحب کے اس فقرہ سے میں یہ بھی سمجھ گیا کہ مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے اور یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے چھ سال پہلے وہ اعلان کر چکے تھے کہ :۔مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم