خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 458

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۸ جلد اول اس کی گھڑیاں خوف ورجا کی نازک گھڑیاں تھیں۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جس کے ہاتھ پر تمام جماعت احمد یہ سوائے معدودے چند آدمیوں کے بیعت کر چکی تھی۔یہ وصیت اُس نے تحریر کی تھی جو علاوہ خلیفہ المسیح ہونے کے یوں بھی تقویٰ اور دیانت میں تمام جماعت پر فضیلت رکھتا تھا۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جس کے احسانات دینی و دنیاوی جماعت کے کثیر حصہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایام زندگی سے ہی ہوتے چلے آئے تھے۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جو قرآن وحدیث کا کامل ماہر اور ان کا عاشق تھا۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جس کے ہر ایک حکم کی اطاعت کا اقرار مولوی محمد علی صاحب کر چکے تھے۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جس کی شاگردی کا جوا مولوی محمد علی صاحب کی گردن پر رکھا ہوا تھا۔یہ وصیت اُس نے لکھی تھی جس نے با وجو دسخت نقاہت اور ضعف کے اپنی بیماری کے آخری ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو قرآن پڑھایا۔غرض یہ وصیت اُس نے لکھی ہوئی تھی جس کی اطاعت خدا تعالیٰ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب پر فرض ہو چکی تھی اور جس کے احسانات کے نیچے ان کی گردن جھکی جاتی تھی۔یہ وصیت مولوی محمد علی صاحب کو پڑھوائی گئی تھی اور ایک دفعہ نہیں بلکہ تین بار۔یہ وصیت جب لکھی جا چکی اور مولوی محمد علی صاحب اس کو پڑھ چکے تو ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی؟ ہاں جب یہ وصیت لکھی جا چکی اور مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کیا گیا کہ اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی؟ تو انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بالکل ہے۔غرض یہ وصیت ایک زبر دست وصیت تھی۔اس کا کوئی پہلو نامکمل نہ تھا۔اس کے لکھنے والا کامل ، اس کے لکھنے کا وقت خاص الخاص ، اس کا علم مولوی محمد علی صاحب کو پوری طرح دیا گیا اور ان سے اس کے درست ہونے کا اقرار لیا گیا۔پس اس کی تعمیل ان پر واجب اور فرض تھی مگر انہوں نے کیا کیا ؟ مولوی صاحب نے اس امانت سے وہ سلوک کیا جو کسی نے کبھی نہ کیا تھا۔جس وقت وہ حضرت خلیفہ امسیح کی وصیت پڑھ رہے تھے اُس وقت اُن کے دل میں یہ خیالات جوش زن تھے کہ میں ایسا کبھی نہیں کرنے دوں گا۔وہ اپنے پیر کو اس کے بستر مرگ پر