خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 457

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۷ جلد اول روشنی ڈالتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ کس طرح اس ٹریکٹ کی خاطر انہوں نے مجھ سے دھوکا کیا مگر میں اب اس سلوک کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس ٹریکٹ کی اشاعت سے انہوں نے حضرت خلیفة المسیح الاوّل سے کیا۔سنگدل سے سنگدل آدمی بھی جب اپنے کسی عزیز کو بستر مرگ پر دیکھتا ہے تو اس سے دھوکا کرنا پسند نہیں کرتا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے کیا سلوک کیا ؟ آپ نے اپنی وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاح کو دی اور ان سے تین بار پڑھوائی اور پھر دریافت کیا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی؟ اور انہوں نے اقرار کیا کہ نہیں بالکل درست ہے۔یہ وصیت صحت میں نہیں لکھی گئی بلکہ بیماری میں اور عین اُس وقت جبکہ دنیا وی سامانوں کے لحاظ سے زندگی کی امید بالکل منقطع ہو چکی تھی۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی جبکہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل اپنی موت کو قریب دیکھ رہے تھے اور اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے آقا ومولیٰ سے ملنے کی امید میں تھے۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی جبکہ اس جماعت کو جسے چھ سال سخت تکلیف کے ساتھ خطرناک سے خطرناک ابتلاؤں کی آندھیوں اور طوفانوں سے بچا کر آپ کامیابی کے راستہ پر لے جا رہے تھے آپ چھوڑنے والے تھے اور اس کی آئندہ بہتری کا خیال سب باتوں سے زیادہ آپ کے پیش نظر تھا۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی جبکہ آپ اپنے آقا مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا کر اسے اپنے کام کو امانت سے ختم کرنے کی خبر دینے والے تھے۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی جس وقت آپ اپنی عمر کا آخری باب ختم کر رہے تھے۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی کہ جس کے بعد آپ جماعت کی اور کوئی خدمت کرنے کی امید نہ رکھتے تھے۔یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی جس وقت ضعف و نقاہت سے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور یہ وصیت بھی نہایت تکلیف سے آپ نے لیٹے لیٹے ہی لکھی تھی۔غرض یہ وصیت اُس وقت لکھی گئی تھی جبکہ ایک عظیم الشان انسان اپنی مقدس زندگی کی آخری گھڑیاں گزار رہا تھا۔جس وقت ایک طرف تو اپنے پیدا کرنے والے اپنے محبوب حقیقی کی ملاقات کا شوق اس کے دل کو گد گدا رہا تھا اور دوسری طرف اپنی وفات کے ساتھ ہی اپنی آخری عمر کی محنت و کوشش کے اکارت جانے کا خوف اس کے دل کو ستار ہا تھا۔غرض وہ