خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 456

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۶ جلد اول انہوں نے ظاہر کیا تھا تو اپنے پہلے ٹریکٹ کو واپس منگوا لیتے اور اس کو شائع نہ کرتے اور اگر اس سے اختلاف رکھتے تھے تو مجھے یہ جواب دیتے کہ اختلاف سے جماعت کو واقف کرنا نہایت ضروری ہے۔چنانچہ میں خود ایک ٹریکٹ لکھ کر چھپنے اور شائع کرنے کیلئے لاہور بھیج چکا ہوں اس لئے میں اس اشتہار پر دستخط نہیں کر سکتا۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے اس اشتہار پر پسندیدگی کا اظہار کیا لیکن مجھے اس کی اشاعت سے رُکنے کا مشورہ اس بناء پر دیا کہ لوگوں کو اختلاف کا علم ہو گا اور خود ایک ٹریکٹ لکھا جس میں یہاں تک لکھ دیا کہ ہمارا اختلاف اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ ایک فریق دوسرے کی نسبت کہتا ہے کہ وہ کافر ہے اور واجب القتل ہے۔حالانکہ اختلاف کو آج پانچ سال گزر چکے ہیں اور پہلے کی نسبت اختلاف بہت زیادہ ہے مگر اب تک بھی کسی نے ان کو کافر اور واجب القتل قرار نہیں دیا۔گوان کو شوق ضرور ہے کہ اپنی نسبت ایسا فتویٰ حاصل کریں جیسا کہ پچھلے دنوں تشحیذ الا ذہان کے ایک مضمون سے جس میں غلطی سے ڈائری نویس نے ان کی طرف اشارہ کر دیا تھا با وجود اس کی تردید ہو جانے کے انہوں نے اس کو تشہیر دے کر اپنی مظلومیت کا اظہار شروع کر رکھا ہے۔غرض جس وقت یہ ٹریکٹ میں نے پڑھا میں حیران خدا تعالیٰ سے طلب امداد ہو گیا اور میں نے فتنہ کو آتا ہوا دیکھ لیا اور سمجھ لیا که مولوی محمد علی صاحب بغیر تفریق کے راضی نہ ہوں گے۔ایسے وقت میں ایک مومن سوائے اس کے اور کیا کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گر جائے اور اس سے مدد طلب کرے۔میں نے بھی ایسا ہی کیا اور خود بھی دعا میں لگ گیا اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں میرے ساتھ تھے اُن کو جگایا اور اُن کو اس ٹریکٹ سے آگاہی دی اور ان کو بھی دعا کے لئے تاکید کی۔ہم سب نے دعائیں کیں اور روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدی جو میرے ہم خیال تھے اس دن روزہ دار تھے۔حضرت خلیفہ اول سے آخری وقت میں مولوی مولوی محمد علی صاحب کا یہ ٹریکٹ ان کے باطنی محمد علی صاحب کا نہایت سنگدلانہ سلوک خیالات پر بہت کچھ