خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 453

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۳ جلد اول اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس میں دقت ہے۔چونکہ عقائد کا اختلاف ہے اسلئے تعیین میں اختلاف ہو گا ہم لوگ کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر کیوں کر بیعت کر سکتے ہیں جس کے ساتھ ہمیں اختلاف ہو میں نے جواب دیا کہ اول تو ان امور اختلافیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے رو کے۔( اُس وقت تک اختلاف عقائد نے اس طرح سختی کا رنگ نہ پکڑا تھا ) لیکن بہر حال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ مشکل ہے آپ سوچ لیں اور مشورہ کر لیں اور کل پھر گفتگو ہو جاوے۔میں نے بھی ان سے درخواست کی کہ آپ بھی میرے خیالات کے متعلق اپنے دوستوں سے مشورہ کر لیں اور پھر مجھے بتائیں تا کہ دوبارہ گفتگو ہو جاوے۔پس ہم دونوں جدا ہو گئے۔خلافت سے انکار نہیں ہو سکتا رات کے وقت میں نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور ان کو سب گفتگو سنائی۔سب نے اس امر کا مشورہ دیا کہ خلافت سے انکار تو چونکہ مذہباً جائز نہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو خلفاء کا انکار کرتا ہے وہ فاسق ہے اور خلافت کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے اس نعمت کو چھوڑ نا تو جائز نہیں۔میں نے ان کو بتایا کہ مولوی صاحب کی باتوں سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس امر پر زور دیں گے۔مگر یہی رائے قرار پائی کہ یہ ایک مذہبی بات ہے جس کو دوسروں کے لئے قربان نہیں کیا جا سکتا۔وہ لوگ ایک خلیفہ کی بیعت کر چکے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزد یک بیعت جائز ہے حرام نہیں اور ہمارے نزدیک بیعت نہ کرنا اور خود خلافت کو چھوڑ دینا حرام ہے۔پس جب وہ اس امر کے انکار میں جسے وہ جائز سمجھتے ہیں اس قدر مصر ہیں تو ہم اس بات کو جسے ہم فرض سمجھتے ہیں کیونکر ترک کر سکتے ہیں۔اس پر مجلس برخواست ہوگئی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر جیسا کہ میں نے پہلے دن تاکید کی تھی بہت سے لوگوں نے روزہ رکھنے کی تیاری کی ہوئی مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکٹ تھی۔جن لوگوں کو تہجد کے لئے اٹھنے کا موقع نہیں ملا کرتا تھا انہوں نے بھی نماز تہجد ادا کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔دو بجے کے قریب میں اُٹھا