خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 452
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۲ جلد اول میں نے ان سے کہا کہ جلدی کا کام بیشک بُرا ہوتا ہے اور مشورہ کے بعد ہی کام ہونا چاہیے۔لوگ بہت سے آ رہے ہے اور کل تک امید ہے کہ ایک بڑا گر وہ جمع ہو جاوے گا۔پس کل جس وقت لوگ جمع ہو جاویں مشورہ ہو جاوے۔جو لوگ جماعت میں کچھ اثر رکھتے ہیں وہ تو قریب قریب کے ہی رہنے والے ہیں اور کل تک امید ہے کہ پہنچ جاویں گے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اس قدر جلدی ٹھیک نہیں۔چونکہ اختلاف ہے اس لئے پورے طور پر بحث ہو کر ایک بات پر متفق ہو کر کام کرنا چاہئے۔چار پانچ ماہ اس پر تمام جماعت غور کرے۔تبادلۂ خیالات کے بعد پھر جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔میں نے دریافت کیا کہ اول تو سوال یہ ہے کہ اختلاف کیا ہے؟ پھر یہ سوال ہے کہ اس قدر عرصہ میں اگر بغیر کسی راہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے موقع پر بھی اسی طرح ہوا تھا کہ جو لوگ جمع ہو گئے تھے انہوں نے مشورہ کر لیا تھا اور یہی طریق پہلے زمانہ میں بھی تھا۔چھ چھ ماہ کا انتظار نہ پہلے کبھی ہوا نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد۔مولوی محمد علی صاحب نے جواب دیا کہ اب اختلاف ہے پہلے نہ تھا۔دوسرے اس انتظار میں حرج کیا ہے؟ اگر خلیفہ نہ ہو تو اس میں نقصان کیا ہوگا ؟ وہ کون سا کام ہے جو کل ہی خلیفہ نے کرنا ہے؟ میں نے ان کو جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جماعت اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ اس جماعت میں سلسلہ خلفاء چلے گا اس پر دوبارہ مشورہ کی ضرورت نہیں اور یہ سوال اب نہیں اُٹھایا جا سکتا۔اگر مشورہ کا سوال ہے تو صرف تعیین خلیفہ کے متعلق اور یہ جو آپ نے کہا کہ خلیفہ کا کام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا کام علاوہ روحانی نگہداشت کے جماعت کو متحد رکھنا اور فساد سے بچانا ہے اور یہ کام نظر نہیں آیا کرتا کہ میں آپ کو معین کر کے وہ کام بتا دوں۔خلیفہ کا کام روحانی تربیت اور انتظام کا قیام ہے نہ روحانی تربیت مادی چیز ہے کہ میں بتا دوں کہ وہ یہ یہ کام کریگا۔اور نہ فساد کا کوئی وقت معین ہے کہ فلاں وقت تک اس کی ضرورت پیش نہ آوے گی۔ممکن ہے کل ہی کوئی امر ایسا پیش آجاوے جس کے لئے کسی نگران ہاتھ کی ضرورت ہو۔پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو۔مشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟