خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 451
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۱ جلد اول خراب ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے پڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اَعُوذُ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ہر سورۃ سے پہلے بشیر اللہ نازل کی ہے۔اَعُوذُ میں انسان بدنیتی سے پناہ مانگتا ہے اور پشیر اللہ کے ذریعہ عمل نیک کی تو فیق چاہتا ہے۔پس جبکہ قرآن کریم کی تلاوت جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور جس کا پڑھنا خدا تعالیٰ نے فرض کیا ہے اس کیلئے اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے تو دوسرے کاموں کے لئے خواہ کتنے ہی نیک ہوں کس قدرت احتیاط کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نماز کے متعلق فرماتا ہے فَوَيلُ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۲۴ یعنی عذاب ہے ان نمازیوں کے لئے جو غرض نماز سے ناواقف ہوتے ہیں اور لوگوں کے دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔وہ نماز جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے اسی کو اس آیت میں نیت کے فرق کے ساتھ موجب عذاب قرار دیا ہے۔پس جو امانت اب ہمارے سپرد کی گئی ہے اس کے پورا کرنے کے لئے ہمیں خاص دعاؤں میں لگ جانا چاہئے اور اهدنا الصراط الْمُسْتَقِيمَ ۲۵ بہت پڑھنا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو اور اس کی رضا ہم پر ظاہر ہو۔اگر خدا تعالیٰ نے مدد نہ کی تو خطرہ ہے کہ ہم ہلاکت میں نہ پڑ جاویں۔پس آج سے ہر ایک شخص چلتے پھرتے نمازوں میں اور نمازوں سے باہر دعا میں لگ جاوے تا خدا ہماری حفاظت کرے اور سیدھے راستہ سے نہ ہٹنے دے اور رات کو اُٹھ کر بھی دعا کرو اور جن کو طاقت ہو روزہ رکھیں۔اس کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل کر میں نے دعا کی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے۔۲۶ مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو میں مسجد سے نکل کر مکرمی خان صاحب محمد علی خان صاحب کے مکان کی طرف آرہا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب مجھے کو ملے اور کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔میں ان کے ساتھ ہو گیا اور ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ چونکہ ہر ایک کام بعد مشورہ ہی اچھا ہوتا ہے اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد جلدی سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ پورے مشورہ کے بعد کوئی کام ہونا چاہئے۔