خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 450
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۰ جلد اول میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹہ کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر میں نے ان کو منوالیا کہ ہمیں اس بات کیلئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔حضرت خلیفہ اول کی وفات آخر وہ دن آگیا جس سے ہم ڈرتے تھے ۱۳ / مارچ کو جمعہ کے دن صبح کے وقت حضرت خلیفتہ المسیح کو بہت ضعف معلوم ہونے لگا اور ڈاکٹروں نے لوگوں کا اندر جا نامنع کر دیا۔مگر پھر بھی عام طور پر لوگوں کا یہ خیال نہ تھا کہ وہ آنے والی مصیبت ایسی قریب ہے۔آپ کی بیماری کی وجہ سے آپ کی جگہ جمعہ بھی اور دیگر نمازیں بھی آپ کے حکم کے ماتحت میں پڑھایا کرتا تھا چنانچہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کے لئے میں گھر گیا۔اتنے میں ایک شخص خان محمد علی خان صاحب کا ملازم میرے پاس اُن کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہے اور ان کی گاڑی کھڑی ہے چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ابھی ہم راستہ میں تھے تو ایک نص دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں اور اس طرح میری ایک پرانی رویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفہ اسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔یہ خبر اُس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے بڑھ کر جماعت میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر پہلی تقریر اسی وقت تمام جماعت کو اطلاع کیلئے تاریں روانہ کر دی گئیں۔خدا تعالیٰ کے حضور دعا میں اکثر حصہ جماعت لگ گیا۔عصر کے وقت مسجد نور میں جبکہ جماعت کا اکثر حصہ وہاں جمع تھا میں نے ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری رکھی گئی ہے جس کے پورا کرنے کے لئے سب جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے۔کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ ہوا گر ارادہ بد ہو تو وہ