خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 445
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۵ جلد اول خیال کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے ان معنوں کو پسند کیا ہوگا۔اس امر کی تائید میں کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ہرگز ان معنوں کو پسند نہیں کیا یہ ثبوت بھی ہے کہ آپ کے درس قرآن کریم کے نوٹوں میں آپ نے وہی معنے کئے ہیں جو ہم نے پہلے لکھے ہیں آپ فرماتے ہیں :۔فرمایا: قل الله ثُمَّ ذَرْهُمْ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ اللہ کرتے رہو۔کیونکہ محض اللہ اللہ ذکر ہماری شریعت اسلامی میں ثابت نہیں بلکہ یہ تو جواب ہے من انزل الكتب کا۔یہ کتاب کس نے اُتاری؟ تو کہہ اللہ نے اس پس آپ کے مطبوعہ معنوں کے خلاف ایک اور معنی جو عربی زبان کے خلاف ہیں آر کی طرف منسوب کرنا کس قدر ظلم اور دیدہ دلیری ہے۔اور جس رسالہ میں قرآن کریم کی وہ آیت کے ایسے غلط معنی کر کے مسئلہ کفر و اسلام کو ثابت کیا گیا ہو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ و حضرت خلیفۃ المسیح کی پسند کردہ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح نہ تو صرف یہ کہ ان معنوں کے خلاف ایک اور معنی کرتے ہیں بلکہ یہ فرما کر کہ قل الله جواب ہے من انزل الكتب كا “ مولوی محمد علی صاحب کے معنوں کو بالکل رڈ کر دیتے ہیں۔تیسری شہادت اس بات کے رد میں یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تیسری شہادت نے اپنے اس رسالہ میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ دل سے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إلا الله کہہ دے تو وہ مومن ہو جاتا ہے۔چاہے پھر اس سے شرک، کفر یا ظلم سرزد ہو۔۲۲ یہ قول ایسا بے معنی اور بیہودہ ہے کہ عقل اس کے سننے سے انکار کرتی ہے۔مگر مولوی محمد علی صاحب نہ صرف یہ کہ اس کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ اسے ان کا مذہب قرار دیتے ہیں مگر با وجود بار بار کے مطالبہ کے کہ امام ابو حنیفہ کی کون سی مخفی کتاب آپ کے ہاتھ آگئی ہے جس میں یہ مذہب ان کا بیان ہے یا ان کے کسی شاگرد نے ان سے یہ مذہب نقل کیا ہے وہ بالکل ساکت و خاموش ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتے اور صرف کہہ دیتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح نے ان کو ایسا ہی لکھوایا تھا حالانکہ