خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 440

خلافة على منهاج النبوة وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ١٣ ۴۴۰ جلد اول اِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُ وَن ان يُفَر تُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بين ذلك سبيلان أوليْكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَاعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مهينا اس طرح بعض لوگ میری نسبت بھی کہتے ہیں کہ یہ کبھی غیر احمد یوں کو مسلمان کہتا ہے اور کبھی کافر۔میرا ارادہ تھا کہ کبھی اس پر ایک مضمون لکھوں کہ ان آیات کا کیا مطلب ہے۔اور میرے اقوال میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کا کیا باعث ہے۔آپ آجکل قرآن کریم کے نوٹ لکھ رہے ہیں آپ اس پر مضمون لکھیں اور مجھے دکھا لیں۔اس میں ان آیات میں مطابقت کر کے دکھائی جاوے۔یہ گفتگو میرے سامنے ہوئی۔اسی طرح کچھ دن بعد جب کہ م میں بھی بیٹھا ہوا تھا حضرت خلیفہ اول نے پھر یہی ذکر شروع کیا اور اپنی نسبت فرمایا کہ میری نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ کبھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہہ دیتا ہے کبھی کا فر حالانکہ لوگ میری بات کو نہیں سمجھے۔یہ ایک مشکل بات ہے حتی کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے۔مولوی محمد علی صاحب کا مولوی صاحب کو گو حضرت خلیفہ امسیح نے ایک بے تعلق آدمی خیال کیا تھا مگر مولوی صاحب کفر و اسلام کے متعلق مضمون دل میں تعصب و بغض سے بھرے ہوئے تھے۔اپر انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور حضرت خلیفہ المسیح نے کہا کچھ تھا انہوں نے لکھنا کچھ اور شروع کر دیا۔بجائے اس کے کہ ان آیات میں تطبیق پر مضمون لکھتے جو بعض لوگوں کے نزدیک ایک دوسری کے مخالف ہیں ” کفر و اسلام غیر احمد یاں“ پر ایک مضمون لکھ دیا۔ادھر پیغام صلح میں یہ شائع کرا دیا گیا کہ حضرت خلیفہ اُسیح نے فرمایا ہے کہ میاں کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں سمجھا * حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔پیغام ۳ مارچ ۱۹۱۴ء صفحهیم ” میاں نے بھی اس کو نہیں سمجھا رسالہ کفر و اسلام صفحہ ۲ اسطر نمبر۱۱ ۱۲۰ میاں نے بھی اس مسئلہ کو نہیں سمجھا“۔