خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 439
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۹ جلد اول جلسہ سالانہ کے چند ہی دن خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کا خیال کے بعد حضرت خلیقہ مسیح بیمار ہو گئے اور آپ کی علالت روز بروز بڑھنے لگی۔مگر ان بیماری کے دنوں میں بھی آپ تعلیم کا کام کرتے رہے۔مولوی محمد علی صاحب قرآن شریف کے بعض مقامات کے متعلق آپ سے سوال کرتے اور آپ جواب لکھواتے کچھ اور لوگوں کو بھی پڑھاتے۔ایک دن اسی طرح پڑھا رہے تھے مسند احمد کا سبق تھا۔آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل صاحب کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہوگئی ہیں جو اس پایہ کی نہیں ہیں۔میرا دل چاہتا تھا کہ اصل کتاب کو علیحدہ کر لیا جاتا مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہو سکا اب شاید میاں کے وقت میں ہو جاوے اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آگئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات پھر دُہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہو سکا آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کریں۔یہ بات آپ نے وفات سے دو ماہ پہلے فرمائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم حضرت خلیفتہ المسیح کا منشاء یہی تھا کہ آپ کے بعد خلفاء کا سلسلہ چلے گا اور یہ بھی کہ خدا تعالی اس مقام پر آپ کے بعد مجھے کھڑا کرے گا۔سئلہ کفر و اسلام کے متعلق خلیفہ المسیح چونکہ مسئلہ کفر و اسلام کا تذکرہ جماعت میں ہمیشہ زیر بحث رہتا تھا کا مولوی محمد علی کو ارشاد اور مولوی محمد علی صاحب نے کبھی ان مسائل پر قلم نہیں اُٹھایا تھا اور ان مسائل کے متعلق ان کو بے تعلق حیثیت حاصل تھی مولوی يفة المسيح محمد علی صاحب کو قرآن کریم کے بعض مقامات پر نوٹ کرانے کے دوران حضرت خلیفہ کا نے مختلف آیات کے متعلق ایک دن فرمایا کہ یہ آیات کفر و اسلام کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہیں اور لوگ بظاہر ان میں اختلاف سمجھتے ہیں مثلاً :- إن الذين أمنوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ التّصرى والصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ واليوم الأخرو عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ