خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 438
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۸ جلد اول پر آپ کے مطلب کو بگاڑ کر پیغام صلح نے جھٹ پٹ شائع کر دیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے انصار اللہ کے جواب میں شائع ہونے والے ٹریکٹوں پر اظہار نفرت کیا ہے اور اس سے یہ غرض تھی کہ تا ان گمنام ٹریکٹوں کا اثر پھر قائم کیا جاوے اور ان کے جوابات کا اثر زائل کیا جاوے۔حالانکہ انصار اللہ کے جوابی ٹریکٹ حضرت خلیفہ امسیح کے حکم کے ماتحت آپ کو دکھانے کے بعد بلکہ آپ کی اصلاح کے بعد شائع ہوئے تھے۔چنانچہ جب سب سے آخری مرتبہ آپ کے سامنے ان کا مسودہ پیش کیا گیا اور اس کی طبع کے متعلق اجازت طلب کی گئی تو آپ نے اس پر یہ تحریر فرمایا۔اخلاص سے شائع کرو خاکسار بھی دعا کرے گا۔اور خود بھی دعا کرتے رہو کہ شریر سمجھے یا کیفر کردار کو پہنچے۔نورالدین۔“ یہ تحریر اب تک ہمارے پاس موجود ہے۔پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح تو ان ٹریکٹوں کے بااثر ہونے کے لئے دعا کا وعدہ فرماتے ہیں اور اگر اظہارالحق کا مصنف باز نہ آئے تو اس کے لئے بددعا کرتے ہیں مگر پیغام صلح حق کی مخالفت کی وجہ سے ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ انصار اللہ کے ٹریکٹوں پر حضرت خلیفہ امسیح کو ناراض لکھتا ہے۔اصل سبب یہی تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اظہار الحق کے مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ ہو اور اس کے جواب پر لوگ بدگمان ہو جائیں۔لیکن اس کا یہ حربہ بھی کارگر نہیں ہوا کیونکہ حضرت خلیفۃ امسیح نے ۱۵ جنوری ۱۹۱۴ء کو ایک تحریر کے ذریعہ شائع فرمایا کہ:۔پچھلے سال بہت سے نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈلوانا چاہا اور اظہار حق نامی اشتہار عام طور پر جماعت میں تقسیم کیا گیا۔جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔مصنف ٹریکٹ کا تو یہ منشاء ہوگا کہ اس سے جماعت میں تفرقہ ڈال دے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو اس فتنہ سے بچا لیا۔“ پیغام نے حضرت خلیفہ اول کے لیکچر کا خلاصہ لکھتے ہوئے لکھا:۔دو جس شخص نے اظہار الحق لکھا اور جنہوں نے کھلی چٹھی شائع کی اور جنہوں نے خلافت پر بحث کی اور ٹریکٹ شائع کئے اُن کا حق کیا تھا“۔(پیغام صلح پر چہ ۶ جنوری ۱۹۱۴ ، صفحه ۲)