خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 435
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۵ جلد اول انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے تو ہماری طرف سے کچھ کمی بیشی کا کلمہ لکھا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہوگی۔ٹریکٹوں کی اشاعت سے دو باتوں کا ظاہر ہونا یہ پانی جوت ہیں اس کی امر کے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء اور ہم خیال تھے۔ان ٹریکٹوں کی اشاعت ہم پر دو امر خوب اچھی طرح ظاہر کر دیتی ہے ایک تو یہ کہ مقابلہ کے وقت اس جماعت سے کسی قانونِ حکومت یا قانونِ اخلاق یا قانونِ شریعت کی پابندی کی امید نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ اس ٹریکٹ کی اشاعت میں قانونِ حکومت کو بھی تو ڑا گیا ہے کیونکہ مطبع کا نام نہیں دیا گیا۔حالانکہ یہ قانون کے خلاف ہے۔قانونِ اخلاق کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح اور مجھ پر اور میرے دیگر رشتہ داروں پر نا پاک سے نا پاک حملے کئے گئے اور الزامات لگانے والا اپنا نام نہیں بتا تا۔تا کہ اس کے الزامات کی تحقیق کی جا سکے کیونکہ مدعی جب تک ثبوت نہ دے اُس کا جواب کیا دیا جا سکتا ہے۔قانونِ شریعت کو بھی تو ڑا گیا ہے کیونکہ لکھنے والا اس شخص کی مخالفت کرتا اور اسے مشرک اور بداخلاق قرار دیتا ہے جس کے ہاتھ پر وہ بیعت کر چکا ہے اور پھر ایسے نا پاک افتراء بغیر ثبوت و دلیل کے شائع کرتا ہے جن کا بغیر ثبوت کے منہ پر لانا بھی شریعت حرام قرار دیتی ہے۔دوسرا امر یہ کہ یہ لوگ اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ کر چکے تھے کہ خواہ کچھ ہو جا وے اپنے مدعا کے حصول کے لئے جماعت کے تفرقہ کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور جماعت کے توڑنے کیلئے حضرت خلیفہ اسیح کی زندگی کے زمانہ میں ہی تدابیر شروع کر دی تھیں۔ٹریکٹوں کے لکھنے والے کئی ایک تھے ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ٹریکٹ خود مولوی محمد علی صاحب نے لکھا مگر بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا لکھنے والا ان کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے ضرور تھا اور ایک نہ تھا کئی تھے بلکہ کوئی جماعت تھی کیونکہ ایک سلسلہ ٹریکٹ کی اشاعت اور وہ بھی کثرت سے ایک شخص کا کام نہیں۔اس کے انتظام، اس کے خرچ اور اس کے ڈسپیچ کیلئے