خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 432
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۲ جلد اوّل باقی کٹا ہوا ہے۔یہ الفاظ معرفت اخبار کے صاف طور پر بتلاتے ہیں کہ پہلے خط و کتابت کے لئے کسی اخبار کا پتہ دیا گیا تھا اور گو یہ اخبار پیغام نہ ہوا اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے نہیں تھا مگر اس سے یہ پتہ ضرور چلتا ہے کہ اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کا تعلق اخبارات سے ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ معاصرانہ تعلقات کی بناء پر ایک اخبار دوسرے اخبار کے عملہ کی خدمت بالعموم کر دیا کرتے ہیں۔۴۔اس ٹریکٹ میں انہی خیالات کی اشاعت تھی جو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے تھے سوائے اس کے کہ حضرت خلیفہ اول کی نسبت کسی قدر زیادہ سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے مگر بیسیوں ایسے گواہ ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ اپنی علیحدہ مجلسوں میں مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں سے بعض بڑے آدمی نہایت سخت الفاظ حضرت خلیفہ اول کی نسبت استعمال کیا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی تعریف کی پالیسی آپ کی وفات کے بعد شروع ہوئی ہے بلکہ خفیہ طور پر خطوں میں بھی ایسے الفاظ استعمال کر لیتے تھے۔چنانچہ ان کے دو بڑے رُکنوں کے ان خطوط میں سے جو انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں سید حامد شاہ صاحب مرحوم کو لکھے ہم بعض حصہ اس جگہ نقل کرتے ہیں۔پہلا خط سید محمد حسین صاحب ان کی صدر انجمن کے محاسب کا ہے۔وہ سید حامد شاہ صاحب کو لکھتے ہیں :۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ 1/10/19+9 اخی مکر می جناب شاہ صاحب سَلَّمَهُ الله تعالیٰ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ جناب کا نوازش نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔قادیان کی نسبت دل کو بٹھا دینے والے واقعات جناب کو شیخ صاحب نے لکھے ہوں گے۔وہ باغ جو حضرت اقدس نے اپنے خون کا پانی دے دے کر کھڑا کیا تھا ابھی سنبھلنے ہی نہ پایا تھا کہ بادخزاں اس کو گرایا چاہتی ہے۔حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ اول) کی طبیعت