خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 429

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۹ جلد اول علیہ السلام نے صاف لکھ دیا ہے کہ آپ کے بعد صدرانجمن کا فیصلہ ناطق ہو گا۔اب جماعت کی حالت کو دیکھو کہ غیر مامور کی ہر ایک بات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔پیغام صلح کو بند کر کے خلیفہ نے جماعت کو اس سے بدظن کر دیا۔( پیغام صلح کی منافقانہ کارروائیوں منافقانہ کارروائیوں سے تنگ آکر حضرت خلیفہ اسیح نے اعلان فرما دیا تھا کہ اسے میرے نام نہ بھیجا کرو اور پھر جب یہ لوگ بھیجتے رہے تو آپ نے ڈاک سے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔مرزا محمود احمد ) جب ایک معزز طبقہ کی بے عزتی بلا وجہ وہ شخص جو جماعت میں عالم قرآن سمجھا جاتا ہے ( یعنی خلیفہ اوّل ) محض خلافت کی رعونت میں کر دیتا ہے تو بے سمجھ نوجوان طبقہ سے بزرگان جماعت کیا امید رکھ سکتے ہیں۔بزرگانِ قوم ان کا رروائیوں کو کب تک دیکھیں گے اور خاموش رہیں گے۔احمد یو! دوسرے پیرزادوں کو چھوڑ واور اپنے پیرزادوں کی حالت کو دیکھو۔دوسرے ٹریکٹ کا خلاصہ دوسرے ٹریکٹ کا خلاصہ یہ تھا۔جماعت احمد یہ میں کوئی عیار نہیں۔غیر مامور کی شخصی غلامی ( یعنی حضرت خلیفہ اول کی بیعت ) نے ہماری حالت خراب کر دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں جماعت بہت آزادی سے گفتگو کر لیتی تھی۔اب سخت تنقید کیا جاتا ہے اور خلیفہ کے کان بھر کر بھائیوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔اگر چندے یہی حالت رہی تو احمدی پیر پرستوں اور غیر احمدی پیر پرستوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک سو سال بعد ہی کوئی مصلح آ سکتا ہے اس سے پہلے نہیں۔جن کا اس کے خلاف خیال ہے وہ اپنے ذاتی فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا خیال پھیلاتے ہیں۔جماعت کی بہتری اسی میں ہے کہ جمہوریت کے ماتحت کام کرے۔اس کے بعد جماعت میں فتنہ کی تاریخ اس طرح لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی گھبراہٹ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کو پس پشت ڈال کر جماعت نے مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ مان لیا تو اُس وقت سب لوگوں کی زبانوں پر یہ کلام جاری تھا کہ مولوی محمد علی صاحب ہی آپ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔حاسدوں نے اس امر کو دیکھ کر بیوی صاحبہ (حضرت اماں جان ) کی معرفت کارروائی شروع کی اور ان کی