خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 415
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۵ جلد اول ہو گئی ہو اور دل سے ان لوگوں نے یہ حرکت نہ کی ہو۔کیونکہ حسن ظنی آپ کی طبیعت میں بہت بڑھی ہوئی تھی اور رحم فطرت میں ودیعت تھا۔غرض ایک عجیب سی حالت پیدا ہو گئی تھی۔ایک طرف تو عام طور پر اپنے زہر یلے خیالات پھیلانے کے باعث یہ لوگ جماعت کی نظروں سے گرتے جاتے تھے دوسری طرف حضرت خلیفۃ امسیح سے خوف کر کے کہ آپ ان کے اخراج کا اعلان نہ کر دیں یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح آپ کی زندگی میں جماعت میں ہی ملے رہیں اس لئے آپ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطبع ظاہر کرتے تھے۔مگر کبھی کبھی اپنی اصلیت کی طرف بھی لوٹتے تھے اور ایسی حرکات کر دیتے جس سے آپ کو آگا ہی ہو جاتی۔مگر پھر فوراً معافی مانگ کر اپنے آپ کو سزا سے بچا بھی لیتے۔اُس وقت جماعت میں خواجہ صاحب کے طرز عمل کا جماعت پر اثر تھالی احمدیت کے متعلق جو کمزوری پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ یا تو مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت میں یہ حال تھا کہ عبدالحکیم مرتد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھتا ہے کہ احمدی سوائے آپ کے ذکر کے کچھ سننا ہی پسند نہیں کرتے ، ہر وعظ میں آپ کا ہی ذکر ہوتا ہے اور یا یہ حال ہو گیا تھا کہ اپریل ۱۹۱۲ء میں جبکہ میں ایک وفد کے ساتھ مختلف مدارس عربیہ کو دیکھنے کیلئے اس نیت سے گیا کہ مدرسہ احمدیہ کے لئے کوئی مناسب سکیم تیار کی جاوے تو لکھنو ، بنارس ، کانپور میں مجھے تقریریں کرنے کا بھی اتفاق ہوا اور سب جگہ میں نے دیکھا کہ وہاں کی جماعتوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ سلسلہ کا کوئی ذکر نہ ہو کیونکہ پھر لوگ سنیں گے نہیں یا سن کر مخالفت کریں گے۔مگر میں نے ان کو جواب دیا کہ میں اپنے لیکچروں کی تعریف کا خواہشمند نہیں۔حق سنانے کا خواہشمند ہوں۔اگر لوگ نہ سنیں گے یا سن کر مخالفت کریں گے تو یہ ان کی مرضی ہے میں تو خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہو جاؤں گا۔لکھنو سے تو ایک صاحب نے جو اب میری بیعت میں شامل ہیں حضرت خلیفتہ المسیح کو لکھا کہ کاش ! آپ اس وفد کے ساتھ کوئی تجربہ کار آدمی بھی بھیج دیتے۔یہ لوگ اس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں کہ فساد کا خطرہ