خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 408

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۸ جلد اول مضامین سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتے تھے۔اُس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ اگر کفر و اسلام غیر احمدیان کی بحث میں خواجہ صاحب نا کامیاب ہوتے تو مولوی صاحب کی امیدوں کو سخت صدمہ پہنچتا تھا۔کیونکہ بوجہ اُس قبولیت کے جو لیکچروں کی وجہ سے خواجہ صاحب کو حاصل ہو چکی تھی مولوی محمد علی صاحب اب صف اوّل سے صفِ ثانی کی طرف منتقل ہو چکے تھے اور صف اوّل پر خواجہ صاحب کھڑے تھے۔جماعت پر ان کا خاص اثر تھا اور لوگ ان کی باتیں سنتے اور قبول کرنے کیلئے تیار تھے اور مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اسی رسوخ سے کام لیکر اپنے ارادوں کے پورا کرنے کی امید میں تھے۔پس اسی مجبوری نے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے خیالات پر اثر کیا اور آپ اُنہی دنوں میں کھلے طور پر خواجہ صاحب کے ہم خیال ہو گئے اور اب گویا یہ جماعت عقید تا اور سیاستاً ایک ہو گئی ہے ورنہ اس سے پہلے خود مولوی محمد علی صاحب خواجہ صاحب کی طر ز تبلیغ کے مخالف تھے اور مارچ ۱۹۱۰ ء یا دسمبر ۱۹۱۰ء کی کانفرنس احمدیہ کے موقع پر انہوں نے ایک بحث کے دوران جو احمد یہ جماعت کے جلسوں کی ضرورت یا عدم ضرورت پر تھی بڑی سختی سے خواجہ صاحب پر حملہ کیا تھا۔پس یہی معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۱۰ ء یا گیارہ عیسوی میں مذکورہ حالات کے اثر کے نیچے مولوی محمد علی صاحب کے خیالات میں تغییر پیدا ہوا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کو جبکہ خواجہ صاحب کی خاص کوششیں سلسلہ احمدیہ کے اصول کو بدلنے کے متعلق جاری تھیں اور وہ خاص وقعت دینے کی کوشش اپنے اغراض کو پورا کرنے کیلئے ہر طرح سعی کر رہے تھے اور جماعت کو اس کے مرکز سے ہٹا دینے اور غیر احمدیوں میں ملا دینے سے بھی وہ نہ ڈرتے تھے ، جماعت کے سیاسی انتظام کے بدلنے کی فکر بھی ان لوگوں کے ذہن سے نکل نہیں گئی تھی۔اس امر کے لئے دو طرح کوشش کی جاتی تھی ایک تو اس طرح کہ حضرت خلیفہ المسیح کے تمام احکام کو ہدایات پریذیڈنٹ کے رنگ میں ظاہر کیا جاتا تھا جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔اور دوسرے اس طرح کہ مولوی محمد علی صاحب کو خلیفہ کی حیثیت دی جائے تا کہ