خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 401

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۱ جلد اول صدرا مجمن احمد یہ کے معاملات میں جہاں کہیں بھی حضرت خلیفتہ امیج کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں کبھی حضرت خلیفتہ امیج نہ لکھا جاتا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے اس لئے ایسا کیا جاتا ہے۔جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ بھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے بعد انہوں نے اس طرح جماعت کو دھوکا دینا بھی چاہا مگر واقعات کچھ ایسے جمع ہو گئے تھے کہ مجبوراً ان کو اس پہلو کو ترک کرنا پڑا اور اب یہ لوگ خلافت کی بحث میں پڑتے ہی نہیں تا کہ لوگوں کو ان پُرانے واقعات کی یاد تازہ نہ ہو جاوے اور ان کی ناجائز تدابیر آنکھوں کے سامنے آکر ان سے بدظن نہ کر دیں۔غرض انہوں نے یہ کام شروع کیا کہ حضرت خلیفہ اسی کی باتیں تو مانتے مگر خلیفہ کا لفظ نہ آنے دیتے بلکہ پریذیڈنٹ کا لفظ استعمال کرتے۔مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ ان کی پردہ دری کرے۔ایک مکان کی فروختگی کا معاملہ حکیم افضل الدین صاحب ایک بہت خلص احمدی تھے اور ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔انہوں نے اپنی جائیداد کی وصیت بحق اشاعت اسلام کی تھی۔اس جائیداد میں ایک مکان بھی تھا۔انجمن نے اس مکان کو فروخت کرنا چاہا۔یہ مکان حکیم صاحب نے جس شخص سے خریدا تھا اُس نے حضرت خلیفۃ المسیح سے درخواست کی کہ ہمارے پاس اسے کسی قدر رعایت سے فروخت کر دیا جائے کیونکہ ہم ہی سے خریدا گیا تھا اور بعض مشکلات کی وجہ سے بہت سستا ہم نے دے دیا تھا۔پس اب کچھ رعایت سے یہ مکان ہم ہی کو دے دیا جاوے۔حضرت خلیفہ المسیح نے اس بات کو مان لیا اور انجمن کو لکھا کہ اس مکان کو رعایت سے اس کے پاس فروخت کر دو۔ان لوگوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔خیال کیا کہ جماعت کو جب معلوم ہوگا کہ جماعت کی ایک مملوکہ ھے کو حضرت خلیفہ اسیح سستے داموں دلواتے ہیں تو سب لوگ ہم سے مل جاویں گے اور اس امر سے انکار کر دیا۔حضرت خلیفہ امسیح سے بہت کچھ گفتگو اور بحث کی اور کہا کہ یہ لوگ بھی نیلام میں خرید لیں انجمن کیوں نقصان اُٹھائے۔حضرت خلیفہ المسیح نے بہتیرا ان کو سمجھایا کہ ان لوگوں نے مشکلات کے وقت بہت ہی سستے داموں پر یہ مکان