خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 398
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۸ جلد اول اظہار کسی نے کیا کرنا تھا تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کر چکی تھی۔مجھ سے اور نواب محمد علی خان سے جو میرے بہنوئی ہیں رائے دریافت کی۔ہم نے بتایا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں۔خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔انہوں نے بھی مصلحت وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا اور پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کر لیں اور اگر تیار ہوں تب بیعت کریں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے جس میں خلافت کی تائید دستخط لئے گئے تھے کہا کہ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے وہ بھی بیعت کریں۔نمائشی بیعت غرض ان تینوں کی بیعت دوبارہ لی اور جلسہ برخواست ہوا۔اُس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلاء سے بچایا لیکن مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب جوا بھی بیعت کر چکے تھے اپنے دل میں سخت ناراض تھے اور ان کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا دکھاوے کی بیعت تھی۔انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا اور جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر جو اُس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے کا بیان ہے ) مسجد کی چھت سے نیچے اُترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں۔یہ ہے صدق اُس شخص کا جو آج جماعت کی اصلاح کا مدعی ہے۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر کی اگر اکیلی روایت ہوتی تو میں اس کو اس جگہ درج نہ کرتا کیونکہ وہ خواہ کتنے ہی معتبر راوی ہوں پھر بھی ایک ہی شاہد ہیں اور میں اس کتاب میں بقیہ حاشیہ از گذشتہ صفحہ: آنے لگے اور جماعت میں ترقی ہوئی تو جماعت کے چندہ سے اس مسجد کو بڑھایا گیا اور پرانے حصہ مسجد کا نقشہ حسب ذیل ہے۔مغرب جنوب برا مده مشرق شمال