خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 397
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۷ جلد اول آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا اور ایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تعمیر کروایا تھا ہے حضرت خلیفہ اول کی تقریر پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اور بتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے۔خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جاوے گا تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔پس مجھے تمہاری پر واہ نہیں۔خدا کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا یا بیعت لے لینا ہے۔یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے اس کو تو بہ کرنی چاہئے ورنہ نقصان اُٹھائیں گے۔دورانِ تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دکھ دیا ہے اور منصب خلافت کی ہتک کی ہے اسی لئے میں آج اس حصہ مسجد میں کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ اس حصہ مسجد میں کھڑا ہوا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے تقریر کا اثر سینے کھلتے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں جو لوگ نورالدین کو اس کے منصب سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے لگے۔اور یا خلافت کے مخالف تھے یا اس کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔آپ نے دوران لیکچر ان لوگوں پر بھی اظہارِ نا راضگی فرمایا جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے اور فرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ان کو اس کام پر ہم نے کب مامور کیا تھا۔آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص نے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے کہا۔خیالات کا اس بات کو یا درکھنا چاہیے کہ مسجد مبارک ابتداء بہت چھوٹی تھی۔دعوئی سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف علیحدہ بیٹھ کر عبادت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے ملحق ایک گلی پر چھت ڈال کر اسے تعمیر کیا تھا۔کوئی تمہیں آدمی اس میں نماز پڑھ سکتے تھے۔جب دعویٰ کے بعد لوگ ہجرت کر کے یہاں