خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 396

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۶ جلد اول قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اس فقرہ کو سن کر شاید پہلی دفعہ خواجہ صاحب کی جماعت کو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا ہم سمجھے تھے کیونکہ گو ہر ایک خطرہ کو سوچ کر پہلے سے ہی لوگوں کو اس امر کیلئے تیار کر لیا گیا تھا کہ اگر حضرت خلیفہ اول بھی ان کی رائے کو تسلیم نہ کریں تو ان کا مقابلہ کیا جائے۔عموماً یہ لوگ یہی خیال کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ اسبح ان کے خیالات کی تائید کریں گے اور انہی کی رائے کے مطابق فیصلہ دیں گے۔چنانچہ ان میں سے بعض جو حضرت خلیفتہ المسیح کی نیکی کے قائل تھے عام طور پر کہتے تھے کہ خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا ہے ورنہ اگر ان کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہو جاتا۔نہایت اہم اور قابل یادگار مجمع جب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت خلیفہ المسح مسجد کی طرف تشریف لے گئے قریباً دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع تھا جس میں اکثر احمد یہ جماعتوں کے قائم مقام تھے۔بیشک ایک نا واقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع جو بلا فرش زمین پر بیٹھا تھا ایک معمولی بلکہ شاید حقیر نظارہ ہومگر ان لوگوں کے دل ایمان سے پُر تھے اور خدا کے وعدہ پر ان کو یقین تھا۔وہ اس مجلس کو احمدیت کی ترقی کا فیصلہ کرنے والی مجلس خیال کرتے تھے اور اس وجہ سے دنیا کی ترقی اور اس کے امن کا فیصلہ اس کے فیصلہ پر منحصر خیال کرتے تھے۔ظاہر بین نگاہیں ان دنوں پیرس میں بیٹھنے والی پیس کا نفرنس کی اہمیت اور شان سے حیرت میں ہیں مگر در حقیقت اپنی شان میں بہت بڑھی ہوئی وہ مجلس تھی کہ جس کے فیصلہ پر دنیا کے امن کی بناء پڑنی تھی۔اُس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی۔دنیا کی عام سوسائٹیوں کا رنگ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ۔اُس دن اہل دنیا کی زندگی یا موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا۔بے شک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ یہ مخفی مذہبی لہر ہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثر کرنے والی اور دنیا میں نیک اور پر امن تغیر پیدا کرنے والی ہے۔غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی تشریف لائے۔آپ کیلئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر