خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 394

خلافة على منهاج النبوة ۳۹۴ جلد اول یوں تو احمدی عموماً تہجد پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں مگر یہ رات عجیب رات تھی کہ بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے یہ رات کائی اور قریباً سب کے سب تہجد کے وقت مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تا کہ دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں اور اُس دن اس قدر دردمندانہ دعائیں کی گئیں کہ میں یقین کرتا ہوں کہ عرش عظیم ان سے ہل گیا ہو گا۔سوائے گریہ و بکا کے اور کچھ سنائی نہ دیتا تھا اور اپنے رب کے سوا کسی کی نظر اور کسی طرف نہ جاتی تھی اور خدا کے سوا کوئی ناخدا نظر نہ آتا تھا۔آخر صبح ہوئی اور نماز کی تیاری شروع ہوئی۔چونکہ حضرت خلیفہ اول کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی خواجہ صاحب کے رفقاء نے اس موقع کو غنیمت جان کر لوگوں کو پھر سبق پڑھانا شروع کیا۔میں نماز کے انتظار میں گھر ٹہل رہا تھا۔ہمارا گھر بالکل مسجد کے متصل ہے۔اُس وقت میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ غضب خدا کا ایک بچہ کو خلیفہ بنا کر چند شریر لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔میں چونکہ بالکل خالی الذہن تھا مجھے بالکل خیال نہ گزرا کہ اس بچہ سے مراد میں ہوں۔لیکن میں حیرت سے ان کے فقرہ پر سوچتا رہا۔گو کچھ بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا خوف بے جا تھا۔کسی نے تو کسی کو خلیفہ کیا بنانا ہے خدا بیشک ارادہ کر چکا تھا کہ اسی بچہ کو جسے انہوں نے حقیر خیال کیا خلیفہ بنادے اور اس کے ذریعہ سے دنیا کے چاروں گوشوں میں مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کو پہنچا دے اور ثابت کر دے کہ وہ قادر خدا ہے جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور ان لوگوں کی فطرتیں پہلے ہی سے اس امر کو محسوس کر رہی تھیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں مقدر تھا۔غرض حضرت خلیفہ المسیح کی آمد تک مسجد میں خوب خوب باتیں ہوتی رہیں اور لوگوں کو اونچ نیچ سمجھائی گئی۔آخر حضرت خلیفہ المسیح تشریف لائے اور نماز شروع ہوئی۔نماز میں آپ نے سورۃ بروج کی تلاوت فرمائی اور جس وقت اس آیت پر پہنچے کہ إنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذابُ الْحَرِيقِ کے یعنی وہ لوگ جو مومن مرد اور مومن عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں اور پھر اس کام سے تو بہ نہیں کرتے ان کیلئے اس فعل کے نتیجہ میں عذاب جہنم ہوگا اور جلا دینے والے عذاب میں وہ مبتلاء ہوں گے۔اُس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا۔یوں معلوم ہوتا