خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 393
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۳ جلد اول نہایت خطرناک حالت ایسے وہ برادران جو بعد میں سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہوں اور جنہوں نے وہ درد اور تکلیف نہیں دیکھی جو اس سلسلہ کے قیام کے لئے مسیح موعود علیہ السلام نے برداشت کی اور ان حالات کا مطالعہ نہیں کیا جن میں سے گزر کر سلسلہ اس حد تک پہنچا ہے آپ لوگ اس کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے جو اُس وقت احمدیوں پر طاری تھی۔سوائے چند خودغرض لوگوں کے باقی سب کے سب خواہ کسی خیال یا عقیدہ کے ہوں مردہ کی طرح ہو رہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا کہ وہ اور اس کے اہل وعیال کولہو میں پیس دیئے جاویں بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث بنیں۔اُس دن دنیا با وجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اور زندگی با وجود آسائش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہو رہی تھی۔میں اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جا تا تھا اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا کر دعا کرتا تھا کہ خدایا ! میں نے گو ایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الہی ! میں بے ایمان بنا نہیں چاہتا تو اپنا فضل کرا اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے۔مجھے اپنی رائے کی بیچ نہیں مجھے حق کی جستجو ہے۔راستی کی تلاش ہے۔دُعا کے دوران میں میں نے یہ بھی فیصلہ کر لیا کہ اگر خدا تعالیٰ نے مجھے کچھ نہ بتایا تو میں جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا تا کہ فتنہ کا باعث نہ بنوں۔میرا کرب اس حد تک پہنچا تو خدا کی رحمت کے دروازے کھلے اور اُس نے اپنی رحمت کے دامن کے نیچے مجھے چھپا لیا اور میری زبان پر یہ لفظ جاری ہوئے کہ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوَلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارا رب تمہاری پر واہ کیا کرتا ہے اگر تم اس کے حضور گر نہ جاؤ۔جب یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے تو میرا سینہ کھل گیا اور میں نے جان لیا کہ میرا خیال درست ہے۔کیونکہ اس آیت کریمہ میں قل یعنی کہہ کا لفظ بتاتا ہے کہ میں یہ بات دوسروں کو کہہ دوں۔پس معلوم ہوا کہ جو لوگ میرے خیال کے خلاف خیال رکھتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ ناراض ہے نہ مجھ سے۔تب میں اُٹھا اور میں نے خدا تعالی کا شکر کیا اور میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔