خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 392
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۲ جلد اول انجمن ہی ہے اور خلیفہ صرف بیعت لینے کیلئے ہے اور تمام راستہ بھر خاص طور پر یہ بات ہر ایک شخص کے ذہن نشین کی گئی ہے کہ جماعت اس وقت سخت خطرہ میں ہے چند شریر اپنی ذاتی اغراض کو مد نظر رکھ کر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں اور جماعت کے اموال پر تصرف کر کے من مانی کارروائیاں کرنی چاہتے ہیں۔لاہور میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔اصل جانشین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جاوے گی اور سلسلہ تباہ ہو جاوے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام جانشین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انجمن ہی ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکرٹری انجمن احمد یہ لا ہور اور بابو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیتہ اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے جو کچھ وہ کہے گا ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔غرض محضر نامہ تیار ہوئے ، لوگوں کو سمجھایا گیا اور خوب تیاری کر کے خواجہ صاحب قادیان پہنچے۔چونکہ دین کا معاملہ تھا اور لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس وقت اگر تم لوگوں کا قدم پھسلا تو بس ہمیشہ کیلئے جماعت تباہ ہوئی لوگوں میں سخت جوش تھا اور بہت سے لوگ اس کام کیلئے اپنی جان دینے کیلئے بھی تیار تھے اور بعض لوگ صاف کہتے تھے کہ اگر مولوی صاحب ( حضرت خلیفہ اوّل) نے خلاف فیصلہ کیا تو ان کو اسی وقت خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے گا۔بعض خاموشی سے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے منتظر تھے۔بعض بالمقابل خلافت کی تائید میں جوش دکھا رہے تھے اور خلافت کے قیام کیلئے ہر ایک قربانی پر آمادہ تھے۔عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ باہر سے آنے والے خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تلقین کے باعث قریباً سب کے سب اور قادیان کے رہنے والوں میں سے ایک حصہ اس امر کی طرف جھک رہا تھا کہ انجمن ہی جانشین ہے۔گو قادیان کے لوگوں کی کثرت خلافت سے وابستگی ظاہر کرتی تھی۔