خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 389
خلافة على منهاج النبوة نہ فائدہ۔۳۸۹ جلد اول اسی عرصہ میں جلسہ سالانہ کے دن آگئے جس کیلئے مولوی محمد علی صاحب کے احباب نے خاص طور پر مضامیں تیار کئے اور یکے بعد دیگرے انہوں نے جماعت کو یہ سبق پڑھانا شروع کیا کہ خدا کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صد را انجمن احمد یہ ہے جس کے یہ لوگ ٹرسٹی ہیں اور اس کی اطاعت تمام جماعت کیلئے ضروری ہے۔مگر اس سبق کو اس قدر لوگوں کے مونہوں سے اور اس قدر متعدد مرتبہ دُہرایا گیا کہ بعض لوگ اصل منشاء کو پاگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اصل غرض حضرت خلیفہ اول کو خلافت سے جواب دینا ہے اور اپنی خلافت کا قائم کرنا۔صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبروں میں سے قریباً آٹھ مولوی محمد علی صاحب کے خاص دوست تھے اور بعض اندھا دھند ، بعض حسن ظنی سے ان کی ہر ایک بات پر امَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنے کے عادی تھے۔صدرانجمن احمدیہ کی خلافت سے مراد در حقیقت مولوی محمد علی صاحب کی خلافت تھی جو اُس وقت بوجہ ایک منصوبہ کے اس کے نظم ونسق کے دا حد مختار تھے بعض ضروری کاموں کی وجہ سے مجھے اس سال جلسہ سالانہ کے تمام لیکچروں میں شامل ہونے کا موقع نہ ملا اور جن میں شامل ہونے کا موقع ملا بھی اُن کے سنتے وقت میری توجہ اس بات کی طرف نہیں پھری۔مگر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے بعض لوگوں نے ان کی تدبیر کو معلوم کر لیا تھا اور اب ان کے دوستوں کے حلقوں میں اس امر پر گفتگو شروع ہو گئی تھی کہ خلیفہ کا کیا کام ہے؟ اصل حاکم جماعت کا کون ہے؟ صدر انجمن احمد یہ یا حضرت خلیفتہ المسیح الا ول ؟ مگر خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے اب بھی اس کا کچھ علم نہ تھا۔اب جماعت میں دو کیمپ ہو گئے تھے۔ایک اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو یقین دلایا جاوے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور دوسرا اس پر معترض تھا اور بیعت کے اقرار پر قائم تھا۔مگر حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو ان بحثوں کا کچھ علم نہ تھا اور میں بھی ان سے بالکل بے خبر تھاشمی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے پاس میر محمد الحق صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔ان سوالات کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیج دیا کہ وہ ان کا جواب دیں۔مولوی محمد علی