خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 386

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۶ جلد اول اسلام کی ہتک اس سے زیادہ نہیں ہوسکتی کہ اس کی زندگی کا دار و مدار ایک تیرہ سو سال بعد آنے والے شخص پر رکھا جاوے۔یہ علمی زمانہ ہے قرآن کریم کے علمی مضامین کی اشاعت سے بہت فائدہ کی امید تھی۔ضمیمہ الگ شائع ہوتا مریدا سے لیتے اور ریویو کی اشاعت بڑھ جاتی مگر افسوس کہ احمدی جماعت نے تنگ ظرفی کا نمونہ دکھایا اور جب کہ غیر احمدی تنگ ظرفی کی دیوار کو توڑنے لگے تھے اُنہوں نے اُسے کھڑا کر دیا۔پھر دوسرے خط میں لکھا ہے :۔کیا آپ کے نزدیک تیرہ کروڑ مسلمانوں میں کوئی بھی سچا خدا پرست راستباز نہیں؟ کیا محمدی اثر اس تمام جماعت پر سے اُٹھ گیا ہے ؟ کیا اسلام بالکل مردہ ہو گیا ؟ کیا قرآن مجید بالکل بے اثر ہو گیا ؟ کیا رب العالمین ، محمد ، قرآن، فطرت اللہ اور عقل انسان بالکل معطل اور بیکار ہو گئے کہ آپ کی جماعت کے سوانہ باقی مسلمانوں میں راست باز ہیں نہ باقی دنیا میں ، بلکہ تمام کے تمام سیاہ باطن سیاہ کا ر اور جہنمی ہیں“۔مجھے اس جگہ اس امر پر بحث نہیں کہ اس کے ان خطوط کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا جواب دیا کیونکہ ان مسائل کے متعلق آگے بحث ہوگی۔اس وقت اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے ان خطوط کے جواب میں لکھ دیا کہ :۔اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں کیا راستبازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی کر لینا چاہئے کہ وہ ہزارہا یہود اور نصاریٰ جو اسلام نہیں لائے کیا وہ راست بازوں سے خالی تھے؟ بہر حال جب کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلاء ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔اس سے سہل تر یہ بات