خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 383
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۳ جلد اول جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور خواجہ صاحب کی نظر سے وہ زمانہ اوجھل ہوتا گیا جب وہ مسیحیت اور اسلام کے درمیان کھڑے تھے اور ایک طرف تو مسیحیت کی دلفریب تعلیم انہیں لبھا رہی تھی اور دوسری طرف اپنے عزیز و اقرباء کی جدائی ان کو خوف دلا رہی تھی ان کا ایمان اور تعلق بھی کمزور ہوتا گیا حتی کہ ڈپٹی آٹھم کی پیشگوئی کے وقت وہ مرتد ہوتے ہوتے بچے۔سیح موعود علیہ السلام کا مضمون ۱۸۹۷ء میں جب لاہور میں جلسہ اعظم کی بنیاد پڑی اور حضرت مسیح موعود برائے جلسہ اعظم اور خواجہ صاحب علیہ السلام کو بھی اس میں مضمون لکھنے کیلئے کہا گیا تو خواجہ صاحب ہی پیغام لے کر آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُن دنوں میں اسہال کی تکلیف تھی باوجود اس تکلیف کے آپ نے مضمون کا لکھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ختم کیا۔مضمون جب خواجہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تو انہوں نے اس پر بہت کچھ نا امیدی کا اظہار کیا اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خواہ مخواہ ہنسی کا موجب ہوگا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ مضمون بالا رہاہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کر لاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیا جائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلی اور تشفی بھی دلائی۔مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نَعُوذُ بِاللهِ لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کر کے لگا دیئے گئے تا کہ لوگ اُن کو پڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کہا جا سکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے۔کیوں کہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ بالا رہا اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیا جاوے۔آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا۔مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی