خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 382

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۲ جلد اول کے سلسلہ میں بھی داخل ہوئے اور ان کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو بھی ابتلا ء آیا۔خواجہ کمال الدین صاحب خواجہ کمال الدین صاحب جو دو کنگ مشن کی وجہ سے خوب مشہور ہو چکے ہیں میرے نزدیک اس سب کا احمدیت میں داخلہ اختلاف کے بانی ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ان کے شاگرد ہیں جو بہت بعد ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہماری طرف سے متعدد دفعہ یہ بات شائع ہو چکی ہے کہ اصل میں خواجہ صاحب کے دل میں حضرت مسیح موعود کے متعلق کئی قسم کے شکوک پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے مولوی محمد علی صاحب سے بیان کئے جس سے ان کے خیالات بھی خراب ہو گئے۔اسی وجہ سے اس قصہ کے مشابہ قصہ تیار کرنے کیلئے ان کو ظہیر الدین کا قصہ تیار کرنا پڑا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب جب اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں تو اس کو حق سمجھ کر ہی داخل ہوئے تھے لیکن ان کے داخل ہونے کا یہ باعث نہ تھا کہ سلسلہ کی صداقت ان کے دل میں گھر کر گئی تھی بلکہ اصل باعث یہ تھا کہ وہ اسلام سے بیزار ہوکر مسیحیت کی طرف متوجہ ہو رہے تھے اور چونکہ اہل و عیال اور عزیر واقارب کو چھوڑ نا کوئی آسان کام نہیں ان کا دل اُس وقت سخت کشمکش میں تھا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے سامنے انہوں نے مسیحی پادریوں کو بھاگتے دیکھا تو ان کو اس کشمکش سے نجات ہوئی اور ان کو اسلام میں بھی ایک ایسا مقام نظر آنے لگا جہاں انسان اپنا قدم جما کر مغربی علوم کے حملوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔چونکہ یہ فائدہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل ہوا تھا وہ آپ کی جماعت میں شامل ہو گئے اور اس وقت خیال کر کے یہی کہنا چاہئے کہ بچے دل سے داخل ہوئے اور واقعہ میں جس شخص کے ذریعہ سے انسان ایسے خطر ناک ابتلاء سے بچے وہ اسے ہر ایک درجہ دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔پس مسیح موعود علیہ السلام کو خواجہ صاحب نے مانا تو سہی لیکن آپ کے دعوی کی صداقت کا امتحان کر کے نہیں بلکہ اس کے احسان سے متاثر ہو کر جو اسے مسیحیت سے بچانے اور اپنے رشتہ داروں کی جدائی سے محفوظ کر دینے کی صورت میں اس نے کیا۔یہ بات ظاہر ہے کہ ایسا تعلق دیر پا نہیں ہوتا۔