خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 372

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۲ جلد اول بھی خلیفہ یا امیر کی اطاعت کیوں ضروری ہے ۲۶ فروری ۱۹۲۰ء کو جماعت احمد یہ لاہور سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہر ایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کر جاتے ہیں مگر باوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔تو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ی غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کہے میں کبھی کسی امر میں غلطی نہیں کر سکتا۔خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے لیکن باوجود اس کے اُس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت تنہ پیدا ہوسکتا ہے۔مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضروری نہیں۔ہو سکتا ہے کہ فی الواقع ضروری نہ ہو لیکن اگر اُس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اِس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے۔جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر ہو وہ اگر دوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ دیں۔اسی طرح جہاں انجمن ہو وہاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہئے۔جہاں تک ہو سکے سیکرٹری یا امیر کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسے سمجھانا چاہئے لیکن اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو دوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہئے۔کیونکہ رائے کا چھوڑ دینا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضروری ہے۔( انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۸۹ )