خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 21
خلافة على منهاج النبوة ۲۱ جلد اول ہیں۔لوگ ان کے پاس سے گذرتے ہیں مگر ان سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے بلکہ ان سے پھیر لیتے ہیں۔دنیا میں پانی کی اس قدر بہتات اور کثرت ہے پھر بھی بغیر بارانِ الہی کے قحط پڑ جاتا ہے تو پھر کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ لوگ اس قانونِ الہی کو فراموش کر دیتے ہیں اور کہہ دیا کرتے ہیں کہ بس دنیا کیلئے صرف دید ہی کافی ہیں جو ابتدائے پیدائش عالم میں دنیا کو عطا ہوئے تھے۔صرف ژند اوستا و دسا تیر ہی کافی ہیں جو کہ ویدوں کے بعد اہل فارس کو دیئے گئے۔یہودی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ صرف تو رات ہی کافی ہے جو بنی اسرائیل کے لئے خدائی عہد اور قانون تھا اور عیسائی صاحبان بائبل پر ہی اکتفاء کر بیٹھتے ہیں اور مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ جب ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے اور احادیث صحیحہ موجود ہیں تو پھر ہمیں کسی مجدد یا امام کی کیا ضرورت ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی کہہ دے جب کہ ہمارے پاس پانی کے سمندر اور دریا اور کنویں موجود ہیں تو پھر ہمیں کسی بارش کی کیا ضرورت ہے۔کیا ایسا انسان عقلمند کہلا سکتا ہے۔كَلَّا وَحَاشَا۔صاحبان ! جب کہ عالم جسمانی کی تربیت کے لئے سمندر ، دریا اور کنویں کافی نہیں ہیں تو پھر کس طرح روحانی سمندر، دریا اور کنویں کے ساتھ روحانی بارش کی ضرورت نہ ہو گی۔اگر صرف کتب ہی کافی ہوتیں اور کسی انسان کی ضرورت نہ ہوتی تو رسل کی کیا ضرورت تھی۔ہم دیکھتے ہیں کہ کتاب بغیر معلم کے کبھی کوئی پڑھ نہیں سکتا۔انسان بغیر زندہ نمونہ کے کچھ سمجھ نہیں سکتا۔اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے لئے انسان سمجھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور اُنہوں نے اس تعلیم پر خود چل کر ثابت کر دیا کہ تعلیم الہی قابل عمل ہے انسانی طاقت اور وسعت سے بڑھ کر نہیں ہے۔بے شک قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے ہوتے ہوئے کسی اور تعلیم کی ضرورت نہیں ہے مگر معلم کی تو ضرورت بہر حال رہے گی کتب حساب میں مثالیں حل کی ہوئی بھی ہیں مگر پھر بھی بڑی مُغلق ہوتی ہیں کہ وہاں تک ہر ایک کے فہم کی رسائی نہیں ہوسکتی اور بغیر مدداُستاد کے انسان اس سے مستفید نہیں ہوسکتا۔