خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 363
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۳ جلد اوّل بات ہے۔حضرت نوح کے لڑکے کا خدا تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔اس کے متعلق اول تو یہی جھگڑا ہے کہ وہ ان کا بیٹا تھا کہ نہیں۔مگر پھر بھی دوسروں کے لئے مہلک اور مغوی نہیں تھا خود گمراہ تھا۔تو ہم کہتے ہیں کہ کسی کو اس لئے ماننا کہ وہ بڑے آدمی کی اولاد ہے کم عقلی ہے۔مگر جس کو خدا تعالیٰ بزرگی دے دے اس کو اس لئے نہ ماننا کہ وہ کسی بڑے انسان کی اولا د ہے یہ بھی کم عقلی ہے۔بہر حال دونوں طرح بات برابر ہے اب ان کی جو مرضی ہو کہیں مگر ان کا فلسفہ درست نہیں ہے اور اس کا نتیجہ وہ دیکھ رہے ہیں اور آئندہ دیکھیں گے۔ان کے گھروں میں اولا دموجود ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی اولادوں کو اس وقت تک دین کے حاصل کرنے کی توفیق نہیں دی اور اس کی وجہ صاف ہے کہ چونکہ انہوں نے ہم سے اس لئے دشمنی کی ہے کہ ہم اس بڑے انسان کی اولاد ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے بڑا بنایا اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ نے ان کے گھروں میں یہ بات پیدا کر دی۔(انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۷ ۴۸ تا ۴۹۳) مسلم کتاب الایمان باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال لا اله الا الله صفحه ۵۶ حدیث نمبر ۲۷۷ مطبوعہ ریاض الطبعۃ الثانیۃ میں الفاظ اس طرح ہیں أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قلبه