خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 359
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۹ جلد اول خلیفہ قرار دے کر ان کے قتل کا فتویٰ دے دیا ہے۔چنانچہ ان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا۔مگر یہ بھی بالکل غلط ہے۔کیونکہ میں اپنے مضامین میں لکھ چکا ہوں کہ وہ خلافت کے مدعی نہیں ہیں۔مگر ہم اسے بھی چھوڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرایا ہے اور ان کی نیتوں کو ظاہر کر دیا ہے اور اس طرح کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے موجودہ لاٹ صاحب پنجاب کو ایک ایڈریس پیش کیا گیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ ہم سب مسلمانوں کی طرف سے درخواست کرتے ہیں کہ سلطان تر کی جو ہما را خلیفہ ہے اس کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔اس درخواست کرنے والوں میں غیر مبائعین کی انجمن کے سیکرٹری صاحب بھی شامل تھے۔پھر ان سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ کنگ مشن کی طرف سے ایک جلسہ کی دعوت مولوی صدر الدین کی طرف سے دی گئی اور دعوتی رقعہ میں لکھا گیا کہ یورپ ہمارے خلیفہ سلطان ترکی کے حقوق چھیننے کی تیاریاں کر رہا ہے ان کی حفاظت کیلئے جلسہ کیا جائے گا۔بہر حال یہ لوگ خلافت کے قائل تو ہو گئے مگر کون سی خلافت کے؟ اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیروؤں میں سے تو کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی ہاں آپ کے منکروں میں سے خلیفہ ہوسکتا ہے۔بہت اچھا ایسا ہی سہی مگر اس پر بھی بس نہیں کی۔خدا تعالیٰ نے انہیں اور طرح بھی پکڑا ہے۔ابھی تازہ خبر آئی ہے کہ لندن میں مسلمانوں کا ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ خلافت مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے گورنمنٹ کو اس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔اس جلسہ کے پریذیڈنٹ ایک انگریز ڈاکٹر لیون تھے۔وہ کسی وجہ سے جلسہ میں نہ آ سکے اور مولوی صدرالدین صاحب اس جلسہ کے پریذیڈنٹ ہوئے۔چودھری فتح محمد صاحب کو بھی اس میں مدعو کیا گیا تھا۔سوال و جواب کے وقت چودھری صاحب نے ڈاکٹر عبدالمجید صاحب سے جنہوں نے تقریر کی تھی پوچھا۔کیا مسئلہ خلافت ایک مذہبی سوال ہے؟ ڈاکٹر عبدالمجید صاحب نے جواب دیا ہاں۔مذہبی سوال ہے اور خلافت اسلام کا ایک اہم اور ضروری جزو ہے۔چودھری صاحب نے اس پر بس نہیں کیا اور پوچھا کیا خلیفہ کی اطاعت لازم اور ضروری ہے؟ ڈاکٹر عبدالمجید صاحب نے مولوی صدرالدین صاحب سے جواب کی