خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 356

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۶ جلد اول جو اس سلسلہ کے رُکن سمجھے جاتے تھے ان کو تو ڑ کر الگ کر دیا اور اس کے بعد جو جلسہ ہوا اُس پر خدا نے دکھایا کہ اس کی ترقی میں کسی انسان کا ہاتھ نہیں۔چنانچہ اس سال تین ہزار کے قریب لوگ آئے اور کئی سو نے بیعت کی۔تو ان سب کو الگ کر کے خدا تعالیٰ نے مجھ جیسے کمزور کے ذریعہ اپنے سلسلہ کو ترقی دے کر بتایا کہ اس میں کسی انسان کا دخل نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہورہا ہے وہ خدا ہی کے فضل سے ہو رہا ہے۔ہاں ہر ایک کے ایمان کے مطابق اس سے سلوک کیا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول سے ان کے ایمان کے مطابق سلوک کیا اور ان کے مدارج کو بلند کیا۔اور ان لوگوں سے ان کے ایمان کے مطابق سلوک کیا اور جماعت سے علیحدہ کر دیا۔ہم خدا کے ہاتھ میں ہتھیار کی طرح ہیں اور تلوار خواہ اچھی ہو یا بُری جب اچھے چلانے والے کے ہاتھ میں آجائے تو اچھا ہی کام کرتی ہے۔وہ لوگ جنہوں نے صرف مجھے دیکھا انہوں نے غلطی کی۔انہیں چاہئے تھا کہ یہ دیکھتے کہ میں کس ہاتھ میں ہوں۔غرض ان لوگوں سے فیصلہ مشکل نہیں۔وہ آئیں اور انہیں معیاروں سے فیصلہ کر لیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مخالفین سے فیصلہ کرنا چاہا۔یہی ہماری اور ان کی صلح ہے اور اسی طرح امن قائم ہو سکتا ہے“۔انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۴۰۶ تا ۴۱۹) امتی باب ۵ آیت ۳۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء النور : ۵۶ ریویو آف ریلیجنز مارچ ۱۹۰۶ ء صفحہ ۱۱۷ تا ۱۱۹