خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 355

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۵ جلد اول نہیں کیا کہ میں سب سے نیک ، بڑا عارف اور خدا کا زیادہ مقرب تھا بلکہ اس لئے چنا کہ دنیا مجھے حقیر ، جاہل ، عقل سے کو را، فسادی، فریبی سمجھتی تھی۔خدا نے چاہا کہ وہ لوگ جو مجھے ایسا سمجھتے ہیں ان کو بتائے کہ یہ سلسلہ ان لوگوں پر نہیں کھڑا ہوا جو اپنے آپ کو بڑے بڑے ستون سمجھتے ہیں بلکہ میرے ذریعہ کھڑا ہے اور میں اسے اس پر کھڑا کر سکتا ہوں جس کو تم تا گا سمجھتے ہو۔پس چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے تو حید کے دکھلانے اور شرک کے مٹانے کے لئے کھڑا کیا ہے اس لئے یہاں میرے علم ، میری قابلیت کا سوال نہیں بلکہ خدا کے فضل کا سوال ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو علم دیا گیا اس کا جب مخالفین مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب نے عرب چھپا کے رکھا ہوا ہے اس سے عربی لکھواتے ہیں۔پھر کہتے کہ مولوی نور الدین صاحب عربی لکھ کر دیتے ہیں حالانکہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی کیا لکھ کر دینی تھی جب آپ فوت ہو گئے تو اس کے بعد مولوی صاحب نے اُردو میں بھی کوئی کتاب نہ لکھی۔پھر کچھ ایسے لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ سلسلہ مرزا صاحب پر چل رہا ہے کیونکہ یہ بڑے ساحر اور ہوشیار ہیں۔لیکن جب آپ کو خدا نے وفات دی اُس سال سالانہ جلسہ پر سات سو آدمی آئے تھے اور بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔مگر آپ کی وفات کے بعد ترقی کی طرف جماعت کا قدم بڑھتا ہی گیا اور چھ سال کے بعد جو جلسہ ہوا اس میں ۲۳ سو کے قریب آدمی آئے۔پھر اس وقت یہ کہا گیا کہ اصل بات مولوی نورالدین صاحب ہی کی تھی یہ مشہور طبیب ہے اور بڑا عالم اس لئے لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس کی وفات کے بعد یہ سلسلہ مٹ جاوے گا۔یہ تو مولوی وغیرہ کہتے اور جو نئے تعلیم یافتہ تھے وہ یہ خیال کرتے کہ کچھ انگریزی خواں ہیں ان پر یہ سلسلہ چل رہا ہے۔جب لوگوں میں اس قسم کے خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے تو خدا نے نہ چاہا کہ اس کے سلسلہ کے قیام میں کسی انسان کا کام شامل ہو اس لئے ادھر تو اس نے حضرت مولوی نورالدین جیسے جلیل القدر انسان کو وفات دے کر جدا کرایا اُدھر وہ لوگ