خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 354

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۴ مجھ سے پہنچا ان کو کیا آزار میری غمخواری جو فکر جلد اول ہے ہیں سب بے خبر سے ہیں ہے ہے میرے درپئے آزار دیں میں کھل گیا ہے میرا جسم دل میرا اک کوه آتش بار ہے کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر جن کے سر پر کھینچ رہی تلوار ނ وہ ہے تو اُس وقت مجھ سے جو کچھ کہا جا تا تھا اس کو میں مخفی رکھتا تھا۔نہ کبھی میں نے اس سے اپنے کسی بھائی کو اور نہ کسی اور کو آگاہ کیا۔لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا اب بات میری ذات تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر اس منصب تک پہنچتا ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اس لئے میں خاموش نہیں رہ سکتا اور علی الاعلان اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں۔میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں نے خلافت دھوکا اور فریب سے لے لی حالانکہ خدا تعالیٰ شاہد ہے مجھے اس منصب کے پانے کا خیال بھی نہ تھا۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے ایام میں جب میں نے دیکھا کہ آپ کی حالت نازک ہے اور میری نسبت بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خلافت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو میں نے انہیں کہا کہ تم جس کو خلیفہ منتخب کرو میں اس کی بیعت کرلوں گا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے لیکن کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔پھر جب حضرت مولوی صاحب کے فوت ہو جانے پر نواب صاحب کی کوٹھی میں مشورہ کے لئے جمع ہوئے تو اس وقت بھی میں نے یہی کہا لیکن اُس وقت بھی انہوں نے نہ مانا۔پھر میں تو اُن دنوں یہاں سے کہیں باہر چلا جانا چاہتا تھا اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں چلا جاؤں لیکن دوسرے دن حضرت مولوی صاحب کی وفات ہو گئی اس لئے نہ جا سکا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ میں نے خلافت کیلئے کوئی منصوبہ کیا ، غلط کہتے ہیں۔میں تو ہر چند اس بوجھ کو ہٹانا چاہتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ چونکہ خدا تعالیٰ شرک کو مٹانا چاہتا تھا اس لئے اس نے سب سے کمزور انسان کو اس کام کیلئے چنا۔پس اس نے مجھے اس منصب پر اس لئے کھڑا