خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 352

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۲ جلد اول یا نہیں؟ ہم ان کے جاہل ، کم عقل وغیرہ کہنے سے چڑتے نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہی تو معجزہ ہے اور یہی ہماری صداقت کی دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخالف کہتے ہیں کہ جاہل ہیں ، کچھ جانتے نہیں۔آپ فرماتے یہی تو معجزہ ہے کہ میں اس حالت میں ایسی عربی لکھتا ہوں کہ کوئی دنیا کا بڑے سے بڑا عالم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو ان لوگوں کے مجھے بچہ کہنے پر تم چڑو نہیں بلکہ کہو کہ یہی تو معجزہ ہے۔اگر وہ میرے متعلق یہ کہتے کہ بڑا تجربہ کار ہے، فریبی ہے ، مکار ہے، تو ہو سکتا تھا کہ کہہ دیتے کہ اسی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔لیکن اب تو وہ یہ کہہ کر کہ نا تجربہ کار کم عقل اور بچہ ہے اپنے ہاتھ آپ کاٹ چکے ہیں۔جو ہمیں کامیابی ہو رہی ہے وہ کسی ہماری کوشش اور ہمت کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ہو رہی ہے اور وہ بتا رہا ہے کہ جن کو تم کچھ نہیں سمجھتے ان سے خدا اس طرح کام لیا کرتا ہے۔تو ان لوگوں نے مجھے بچہ اور جاہل قرار دے کر اپنی ناکامی اور نامرادی پر خود دستخط کر دیئے کیونکہ یہ کہہ کر انہوں نے تسلیم کر لیا کہ اس کے ذریعہ جو ترقی ہو رہی ہے وہ اس کوشش سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے پس جب ہماری ترقی خدا کی طرف سے ہے تو کون ہے جو اسے روک سکے۔انتقام لینے کا زمانہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اُتارے۔اس طرح پہلے جو آدم آیا وہ جنت سے نکلا تھا مگر اب جو آدم آیا وہ اس لئے آیا کہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے۔اسی طرح پہلے یوسف کو قید میں ڈالا گیا تھا مگر دوسرا یوسف قید سے نکالنے کیلئے آیا ہے۔پہلے خلفاء میں سے بعض جیسے عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دُکھ دیا گیا مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اس کا ازالہ کرے گا اور ان کے خلفاء کے دشمن ناکام رہیں گے۔کیونکہ یہ وقت بدلہ لینے کا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ اس کے پہلے بندے جن کو نقصان پہنچایا گیا ان کے بدلے لئے جائیں۔میں ماموریت یا مجددیت کا مدعی نہیں ہوں اور نہ خاص الہام پا کر کھڑا ہوا ہوں میں تو اس خلافت کا مدعی ہوں جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ