خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 351

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۱ جلد اول ہے یا کہ کسی نواب یا راجہ سے چند سو روپیل جانا خدائی تائید ہے؟ خدا سے فیصلہ کرالیں پھر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس طرح تائید کرتا تھا کہ آپ پر نئے نئے علوم اور معارف کھلتے تھے اور آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول کو بھی خدا تعالیٰ کی یہ تائید حاصل تھی۔اب میں فخر کے طور پر نہیں بلکہ اس عہدہ اور منصب کے احترام کیلئے جس پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی یہ تائید میرے ساتھ ہے۔اسی وجہ سے میں نے مولوی محمد علی صاحب کو چیلنج دے دیا تھا کہ آئیں بالمقابل بیٹھ کر قرآن کریم کی کسی آیت یا رکوع کی تفسیر لکھیں اور دیکھیں کہ وہ کون ہے جس کیلئے خدا تعالیٰ معارف اور حقائق کے دریا بہاتا ہے اور کون ہے جس کو خدا تعالیٰ علوم کا سمندر عطا کرتا ہے۔میں تو ان کے نزدیک جاہل ہوں ، کم علم ہوں ، بچہ ہوں۔خوشامدیوں میں گھرا ہوا ہوں ، نا تجربہ کار ہوں۔پھر مجھ سے ان کا مقابلہ کرنا کونسا مشکل کام ہے۔وہ کیوں مرد میدان بن کر خدا تعالیٰ کی کتاب کے ذریعہ فیصلہ نہیں کر لیتے اور کیوں گیدڑوں اور لومڑیوں کی طرح چھپ چھپ کر حملے کرتے ہیں۔پھر کیوں خدا پر فیصلہ نہیں چھوڑتے اور خدا سے یہ دعا کرنے کیلئے تیار ہوتے کہ جو جھوٹا ہے اسے تباہ کر۔انسانی فیصلوں اور آراء کو جانے دو اور خدا کے سامنے آؤ تا کہ اُس سے دعا کی جائے کہ جو جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو جائے اور جو سچا ہے وہ بچ جائے۔کیا خدا تعالیٰ کا فیصلہ جھوٹا ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیوں خدا سے فیصلہ نہیں کرا لیا جاتا اور کیوں اس طرح تفرقہ نہیں مٹا دیا جاتا۔تفرقہ کے مٹانے کے طریق یہ طریق ہیں جن سے تفرقہ مٹ سکتا ہے۔اوّل خدا تعالیٰ کی تائید دیکھو کس کے ساتھ ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی طرف سے اسی جگہ کہا گیا تھا کہ ہم تو جاتے ہیں لیکن چند ہی دنوں تک اس مدرسہ میں عیسائیوں کے بچے پھرتے نظر آئیں گے۔اب جب کہ پانچ سال گزر گئے ہیں بتاؤ اس مقام پر مسلمانوں کا قبضہ ہے یا عیسائیوں کا ؟ اور بتاؤ اس مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں کتنے لوگ بیٹھتے تھے اور آج کتنے بیٹھے ہیں۔کیا یہ تائید الہی ہے