خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 19
خلافة على منهاج النبوة ۱۹ جلد اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وجود میں ظاہر فرمائی اور اسلام کی کشتی کا ان کو نا خدا بنایا اور ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لیا۔اسی قدرت ثانیہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت استخلاف میں گھلے اور بین الفاظ میں کیا ہے۔بانی سلسلہ کی موت کے باعث اس کی موت پر چونکہ دین میں سخت ضعف اور اختلال واقعہ ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس خلیفہ کے ذریعہ اس دین کو تمکین عطا کر دیتا ہے اور جو اخواف اور اخطار اُس وقت پیدا ہو جاتے ہیں اُس خلیفہ کے ذریعہ سے اُن کو امن سے بدل دیتا ہے۔وہ خلیفہ شرک کا سخت دشمن ہوتا ہے۔عبادتِ الہی کرتا ہے اور تمام لوگوں کو شرک سے منع کرتا رہتا ہے اور عبادت الہیہ کی طرف بلا تا رہتا ہے۔ہم اللہ کے محض فضل و کرم سے بتا سکتے ہیں کہ ہر خلیفہ جو اس محک " میں پورا اترا ہے وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اور حضرت ابو بکر کے زمانہ میں تمام عرب نے ارتداد اختیار کر لیا تھا اور سوائے جوائی شاید بینہ اور مکہ کے اور مقامات کے لوگوں نے نماز تک چھوڑ دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اول کے ذریعہ دین کو دوبارہ تمکین اور طاقت بخشی اور تمام خوف امن سے بدل گئے اور اللہ تعالیٰ نے دوبارہ شرک کو فروغ نہ پانے دیا۔اور عبادت الہیہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتی تھی پھر ویسے ہی ہونے لگی۔چوتھی بات خلفاء کے منکروں میں فسق بڑھ جاتا ہے اور ان میں راستبازی بالکل نہیں رہتی۔یہی چاروں باتیں ہمارے خلیفہ اول میں مِنْ كُلِ الْوُجُوهِ موجود ہیں۔آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کو تمکین بخشی۔سلسلہ عالیہ پر جو خوف کی آندھیاں چلی تھیں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحم کے ساتھ ان کو امن میں بدل دیا۔وہ اللہ کی خالص عبادت کرتا ہے ، شرک سے سخت بیزار ہے۔اس کے منکر فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔کیا ان شرائط کو کسی کے وجود میں جمع کر دینا کسی انسان کا کام ہوسکتا ہے؟ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔اور ہماری آنکھوں میں عجیب۔بس خلیفہ بنا نا اللہ ہی کا کام ہے کسی کو اس میں دخل نہیں۔“ (الفضل ۱۰؍ دسمبر ۱۹۱۳ء) اسلام نے جو اللہ تعالیٰ پیش کیا ہے اُس کی صفاتِ کاملہ کا فوٹو سورۃ ضرورت امام الحَمدُ میں کمال بسط و ایجاز سے بیان فرمایا گیا ہے اور لطیف بات