خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 18
خلافة على منهاج النبوة ۱۸ جلد اوّل وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ لوگ خلیفہ بناتے ہیں۔ان کو شرم کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب نہیں کرنی چاہیے۔انسان بیچارہ ضعیف البنیان کیا طاقت اور سکت رکھتا ہے کہ وہ دوسرے کو بڑا بنا سکے۔ان الفضل بیدِ الله سے کسی کو بڑا بنا نا خدا کے ہاتھ میں ہے کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔انسان کا علم کمزور، اُس کی طاقت اور قدرت محدود اور ضعیف۔طاقتور مقتدرہستی کا کام ہے کہ کسی کو طاقت اقتدار عطا کرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقرر خلافت کسی انسان کے سپردنہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کیا کیونکہ آنحضور خوب سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ خود اس وقت یہ انتظام کر دے گا۔ایسا ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ال نے گھلے الفاظ میں اپنے بعد کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں کیا بلکہ یہ معاملہ اللہ کے سپر دکر دیا جو آڑے وقتوں پر اپنے بندوں اور سلسلوں کی حفاظت فرما یا کرتا ہے۔اور آپ نے کھلے الفاظ میں دو قدرتوں کا ذکر فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت ہے جو ہمیشہ اسے ظاہر فرماتا رہا ہے۔قدرت اوّل تو رسولوں اور نبیوں کے وجود میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ ان کو اپنی قدرت کاملہ سے دنیا میں استحکام بخشتا ہے اگر چہ دنیا کی زبردست طاقتیں ان کے استیصال کے در پے ہوتی ہیں اور ان کی تخریب میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔اور یہ تو مسلم امر ہے کہ رسل کے اتباع ابتداء میں غربا ء ہی ہوا کرتے ہیں۔اشراف القوم ہمیشہ مخالفت کرتے رہتے ہیں اور یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی سے غرباء کو بڑے انسان بنا دے اور رسولوں کے مخالف اکابر کو ذلیل اور خوار کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قدرت ثانیہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ جب رسول اپنی اُمت کے سر پر سے اُٹھ جاتا ہے اور اُس کی موت بے وقت سمجھی جاتی ہے اور اُمت پر سخت ابتلاء کی آندھیاں چلنے لگ پڑتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی دوسری قدرت ظاہر فرماتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو پھر سنبھال لیتا ہے اور ایک زبر دست انسان ان کے امور کا متولی بنا دیتا ہے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام نے صاف بیان فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرنے کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو سخت ابتلا آیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی دوسری قدرت