خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 350
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۰ جلد اول طرح کہ نواب حیدر آباد نے یا بیگم بھوپال نے آپ کا ماہانہ مقرر کر دیا یا کسی سرحدی نواب نے آپ کو کوئی رقم دے دی۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہوا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید تھی اس طرح ہمارے ساتھ ہے۔لیکن اگر اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید نہیں ہوئی تو اب تمہیں بھی اسے اپنی تائید میں پیش کرنے کو کوئی حق نہیں ہے۔اب کوئی نیا امام نہیں آیا ، کوئی نئی جماعت قائم نہیں ہوئی اس لئے اسی طرح جماعت کی تائید ہونی چاہئے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی اور وہ یہی تھی کہ آپ ایک تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ہزاروں لاکھوں انسان کر دیئے۔اب دیکھئے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے خدا تعالیٰ کی تائید کہتے ہیں یا نہیں؟ اور پھر قرآن کریم میں یہ لکھا ہے یا نہیں کہ جن کی مخالفت ہو اور عالمگیر مخالفت ہو ان کا ترقی کرنا اور اپنے دشمنوں پر غالب آنا ان کے حق پر ہونے کی دلیل ہے اور کیا اس دلیل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی صداقت میں پیش کیا ہے یا نہیں ؟ اگر کیا ہے اور ضرور کیا ہے تو اس سے اب بھی ہماری صداقت معلوم ہوسکتی ہے۔ہمارے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جس طرح بابیوں کی ترقی ہوئی اسی طرح ہماری ہو رہی ہے۔کیونکہ ان کی کوئی مخالفت نہیں کرتا مگر ہماری مخالفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔مگر باوجود اس کے ہماری جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے اور ان کی نسبت جو ہمارے مقابلہ میں اپنے آپ کو حق پر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصلی تعلیم پر سمجھتے ہیں ہماری ترقی بہت زیادہ ہو رہی ہے اور ایسی صورت میں ہو رہی ہے کہ وہ تو غیروں کو مسلمان کہتے ہیں اور ہم کا فرقرار دیتے ہیں۔وہ ہمیں جاہل ، اُجڑ ، بے دین ، خدائی سلسلہ کو تباہ کرنے والے، خدا اور رسول کے دشمن بلکہ اپنی جانوں کے دشمن ، عقل سے کورے، اسلام میں سب سے بڑا تفرقہ ڈالنے والے قرار دیتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے اور باوجود اس کے کہ وہ جو اپنے آپ کو ستون سمجھتے تھے نکل گئے ہیں اور ان کے خیال میں باقی چھڑیاں رہ گئی ہیں یہی چھڑیاں سارا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں یا نہیں؟ یہ خدا تعالیٰ کی تائید