خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 349

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۹ جلد اول 66 اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے اسی طرح میرے مقابلہ میں مولوی محمد علی صاحب نے میرے اس مضمون پر ریو یولکھ کر جس میں مسیح موعود علیہ السلام کو نبی لکھا گیا تھا اپنے ہاتھ کاٹ لئے ہیں۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد میں نے ”صادقوں کی روشنی کو کون دُور کر سکتا ہے“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تو حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ مولوی صاحب ! مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراض کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے۔پھر یہی کتاب حضرت مولوی صاحب نے بذریعہ رجسٹری مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھیجی۔وہ کیوں؟ محمد حسین صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب کی اولا دا چھی نہیں ہے اس لئے یہ کتاب بھیج کر حضرت مولوی صاحب نے ان کو لکھوایا کہ حضرت مرزا صاحب کی اولاد میں سے ایک نے یہ کتاب لکھی ہے جو میں تمہاری طرف بھیجتا ہوں۔تمہاری اولاد میں سے کسی نے کوئی کتاب لکھی ہو تو مجھے بھیج دو۔اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی لکھا گیا ہے۔تو ہم پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی لکھتے تھے اور اب بھی لکھتے ہیں۔مگر وہ لوگ پہلے نبی لکھتے تھے اور اب نہیں لکھتے۔جس سے ظاہر ہے کہ ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی لیکن ان لوگوں نے اپنے طریق عمل میں تبدیلی کر لی ہے۔خدا تعالیٰ کی تائید کس کے ساتھ ہے اس کے سوا ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سلسلے ہوتے ہیں ان کیلئے کچھ ایسے امور بھی ہوتے ہیں جن سے وہ قائم رہتے ہیں اور دن بدن ترقی کرتے ہیں۔اب اگر غیر مبائعین حضرت مرزا صاحب کے بچے قائم مقام ہیں تو اللہ تعالیٰ کی وہ تائید جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میسر تھی ان کے ساتھ ہونی چاہئے اور اگر ہم ہیں تو ہمارے ساتھ ہونی چاہئے۔ان کی طرف سے اپنی کامیابی بتانے کیلئے اگر کچھ کہا جاتا ہے تو وہ یہ کہ فلاں غیر احمدی نے ہمیں اتنا روپیہ دیا۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیوں غیر احمدی روپے دیا کرتا تھا۔کیا خدا تعالیٰ نے آپ کی کبھی تائید کی یا نہیں ؟ اگر کی تو کیا اس