خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 346
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۶ جلد اول۔گو شرح صدر نہ تھا انہیں اپنے جلسہ میں بولنے کا موقع دیا ہے۔اگر چہ ہمارے ملے تعلیمی ہوتے ہیں اور پھر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس سٹیج ہے اس پر باغیوں کو بولنے کا موقع دینا مناسب نہ تھا مگر اس خیال سے کہ وہ کہتے رہتے ہیں کہ ہماری باتیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا میں نے کہا آج وہ اس خواہش کو بھی پورا کر لیں تا کہ اُنہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے حملے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور پوری طرح ہماری جماعت سے ناامید ہو جاویں۔چنا نچہ انہوں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔میں نے بہت دفعہ بڑا غورا اور فکر کیا ہے۔لیکن میری سمجھ میں عقائد کس نے بدلے یہ نہیں آتا کہ ان کا جھگڑا ہی ہم سے کیوں ہے۔میں نے ایک بات ان میں سے کئی آدمیوں سے پوچھی ہے جس کا مجھے کسی نے جواب نہیں دیا۔اور وہ یہ ہے کہ تم بتاؤ مولوی محمد علی صاحب کے مضامین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی لکھا جاتا رہا یا نہیں ؟ وہ کہتے ہیں ہاں لکھا جاتا رہا ہے مگر اس سے مراد مجد د، محدث اور غیر نبی تھی۔ہم کہتے ہیں اچھا یہی سہی۔اس کے متعلق بعض دوست اس طرف گئے ہیں کہ اُن کی مراد یہ نہیں ہو سکتی اور یہ بات ان کے مضامین سے ثابت ہے کہ یقیناً ان کی مراد ایسا ہی نبی اور رسول تھی جیسا ہم مانتے ہیں تا ہم ہم کہتے ہیں اچھا وہی مرا دسہی جو تم لوگ کہتے ہومگر یہ تو بتلا ؤ کہ اب کیوں اسی مراد کو مد نظر رکھ کر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی نہیں لکھتے۔یہ بڑی آسان راہ فیصلہ کی ہے۔اگر اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی لکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔اب بھی لکھتے رہو اور اس سے مراد مسجد دلو پھر جھگڑا ہی کیا ہے اور اختلاف ہی کیسا۔لیکن چونکہ اب اس لفظ کا لکھنا تم لوگوں نے چھوڑ دیا ہے اس لئے معلوم ہوا اسے جن معنوں میں تم پہلے استعمال کرتے تھے ان ہی کو چھوڑ دیا ہے۔یہ ایک موٹی بات ہے۔تمہارا اب مسیح موعود علیہ السلام کو نبی نہ لکھنا بتاتا ہے کہ پہلے اس لفظ سے جو تمہاری مراد ہوتی تھی اس کو تم نے بدل دیا ہے۔لیکن ہم جیسے پہلے لکھتے تھے اب بھی اُسی طرح لکھتے ہیں۔دیکھو تشخیذ الا ذہان رسالہ جب جاری ہوا تو میں نے اس کے ایڈیٹر کی حیثیت سے انٹروڈکشن لکھا۔جس میں پہلے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اب دیکھنا چاہئے کہ