خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 344
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۴ جلد اول کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دینا با لکل مختلف ہے مجبوری سے کسی کام کا کرنا اور معنی رکھتا ہے اور بلا مجبوری اس کا کرنا اور معنی رکھتا ہے۔تیسری بات وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک فریق کے آدمی دوسرے فریق کو چندہ دیں۔کہتے ہیں کسی عورت سے جو غریب تھی پوچھا گیا کہ فلاں شادی پر تو نے کیا نیو تا دیا ؟ اس نے ایک روپیہ دیا تھا اور اس کی بھا وجہ جو امیر تھی اس نے ہمیں رو پے۔وہ کہنے لگی میں اور میری بھا وجہ نے اکیس روپے دیئے ہیں۔اب غیر مبائعین ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔خدا کے فضل سے ہماری جماعت تو کئی لاکھ کی ہے اور وہ چند سو سے زیادہ نہیں اس لینے دینے کا یہ مطلب ہوا کہ وہ کئی ہزار روپیہ ہمارے آدمیوں سے لے جائیں اور سو ڈیڑھ سو روپیہ ہم ان سے لے لیں۔کون عقل مند ہے جو ایسی شرط منظور کر سکتا ہے۔چوتھی بات وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جلسوں میں شامل ہوا کریں یہ بھی ایسی ہی بات ہے جس میں انہیں فائدہ ہے۔مثلاً امرتسر میں ہمارا جلسہ ہو وہاں ان کے چار پانچ آدمی ہیں وہ آجائیں گے۔لیکن اگر ہم نے حکم دیا تو ان کے جلسہ پر سو سے بھی زیادہ ہمارے آدمی چلے جائیں گے اور اس طرح انہیں یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ ہمارا جلسہ بڑا کا میاب ہوا۔پس گوہم نے کسی کو اس سے منع نہیں کیا کہ وہ ان کے جلسوں پر جاوے سوائے اس کے کہ اس کا جانا اُس کیلئے یا دوسروں کیلئے فتنہ کا موجب ہو۔مگر ہم اس طرح کا حکم کس طرح دے سکتے ہیں اس میں تو صریح انہی کا فائدہ ہے نہ ہمارا۔پانچویں بات وہ یہ کہتے ہیں کہ اختلافی مسائل پر صرف میں اور مولوی محمد علی صاحب لکھیں اور کوئی نہ لکھے۔اس میں انہیں یہ بات مدنظر ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تو ہوئے ایک انجمن کے پریذیڈنٹ۔جس کا سب انتظامی کام دوسرے لوگوں کے سپر د ہے۔پھر ان کے کام ہی کون سے ہیں۔چند سو آدمیوں سے تعلقات ہیں۔لیکن ہماری لاکھوں کی جماعت ہے۔بعض دن تو میرے کئی کئی گھنٹے خطوط پڑھنے اور ان کے جواب لکھانے میں صرف ہو جاتے ہیں۔پھر مجھے خود نماز پڑھانی ہوتی ہے لیکن مولوی محمد علی صاحب تو گھر پر ہی نماز پڑھ لینے میں کچھ حرج نہیں محسوس کرتے۔پھر یہاں کے بہت سے کام میرے مشورہ سے ہوتے