خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 336

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۶ جلد اول میں کچھ بھی دخل تھا۔حضرت عثمان نے جس محبت اور جس اخلاص اور جس بردباری سے اپنی خلافت کے آخری چھ سال میں کام لیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔خدائے پاک کے بندوں کے سوا اور کسی جماعت میں ایسی مثال نہیں مل سکتی۔وہ بے لوث مسند خلافت پر بیٹھے اور بے لوث ہی اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔ایسے خطر ناک اوقات میں جب کہ بڑے بڑے صابروں کا خون بھی جوش میں آجاتا ہے آپ نے ایسا رویہ اختیار کیا کہ آپ کے خون کے پیاسے آپ کے قتل کیلئے کوئی کمزور سے کمزور بہانہ بھی تلاش نہ کر سکے اور آخر اپنے ظالم ہونے اور حضرت عثمان کے بری ہونے کا اقرار کرتے ہوئے انہیں آپ پر تلوار اُٹھانی پڑی۔اسی طرح ان واقعات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کو حضرت عثمان کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔وہ آخر دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے اور جب کہ کسی قسم کی مدد کرنی بھی ان کے لئے ناممکن تھی تب بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کرتے رہے۔یہ بھی ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان فسادات میں حضرت عثمان کے انتخاب والیان کا بھی کچھ دخل نہ تھا اور نہ والیوں کے مظالم اس کا باعث تھے کیونکہ ان کا کوئی ظلم ثابت نہیں ہوتا۔حضرت علیؓ اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی الزام بالکل غلط ہے۔ان تینوں اصحاب نے وفاداری اور اس ہمدردی سے اس فتنہ کے دور کرنے میں سعی کی ہے کہ سگے بھائی بھی اس سے زیادہ تو کیا اس کے برابر بھی نہیں کر سکتے۔انصار پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سب سردار اس فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔فساد کا اصل باعث یہی تھا کہ دشمنانِ اسلام نے ظاہری تدابیر سے اسلام کو تباہ نہ ہوتے دیکھ کر خفیہ ریشہ دوانیوں کی طرف توجہ کی اور بعض اکابر صحابہ کی آڑ لے کر خفیہ خفیہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا چاہا۔جن ذرائع سے انہوں نے کام لیا وہ اب لوگوں پر روشن ہو چکے ہیں۔سزا یافتہ مجرموں کو اپنے ساتھ ملایا اور لٹیروں کو تحریص دلائی۔جھوٹی مساوات کے خیالات پیدا کر کے انتظام حکومت کو کھو کھلا کیا۔مذہب کے پردہ میں لوگوں کے ایمان کو کمزور کیا اور ہزاروں حیلوں اور تدبیروں سے ایک جماعت تیار کی۔پھر جھوٹ سے،