خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 332

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۲ جلد اول ایک لوہے کی شیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان کے سامنے جو قرآن دھرا ہوا تھا اُس کو لات مار کر پھینک دیا۔قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان کے پاس آ گیا اور آپ کے سر پر سے خون کے قطرات گر کر اُس پر آپڑے قرآن کریم کی بے ادبی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقویٰ اور دیانت کا پردہ اس واقعہ سے اچھی طرح فاش ہو گیا۔جس آیت پر آپ کا خون گرا وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت میں جاکر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے اس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔وہ آیت یہ تھی فَسَيَكْفِيكَهُمُ الله وهو السميع العليم ٥٠ ۵۰ اللہ تعالیٰ ضرور تیرا ان سے بدلہ لے گا اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا چاہا۔پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اُس کو روکا اور آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ! یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔اس کے بعد پھر اس نے دوسرا وار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا مگر اس شقی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ کی بیوی کی اُنگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں۔پھر اُس نے ایک وار حضرت عثمان پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا۔اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیں نکلی شائد بیچ جاویں اُسی وقت جب کہ زخموں کے صدموں سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے اور شدت درد سے تڑپ رہے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کر دیا اور اُس وقت تک آپ کا گلا نہیں چھوڑا جب تک آپ کی روح جسم خاکی سے پرواز کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم بالا کو پرواز نہیں کر گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ - پہلے حضرت عثمان کی بیوی اس نظارہ کی ہیبت سے متاثر ہوکر بول نہ سکیں۔لیکن آخر انہوں نے آواز دی اور وہ لوگ جو دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے اندر کی طرف دوڑے۔مگر