خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 331
خلافة على منهاج النبوة ٣٣١ جلد اول کیونکہ اس طرف تھوڑے بہت جو لوگ بھی روکنے والے موجود ہیں وہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں یہ فیصلہ کیا کہ کسی ہمسایہ کے گھر کی دیوار پھاند کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا جائے چنانچہ اس ارادے سے چند لوگ ایک ہمسایہ کی دیوار پھاند کر آپ کے کمرہ میں گھس گئے۔جب اندر گھسے تو حضرت عثمان قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔اور جب سے کہ محاصرہ ہوا تھا رات دن آپ کا یہی شغل تھا کہ نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کے سوا اور کسی کام کی طرف توجہ نہ کرتے اور ان دنوں میں صرف آپ نے ایک کام کیا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے آپ نے دو آدمیوں کو خزانہ کی حفاظت کے لئے مقرر کیا۔کیونکہ جیسا کہ ثابت ہے اُس دن رات کو رویا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نظر آئے اور فرمایا کہ عثمان ! آج شام کو روزہ ہمارے ساتھ کھولنا۔اس رؤیا سے آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ آج میں شہید ہو جاؤں گا پس آپ نے اپنی ذمہ داری کا خیال کر کے دو آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ خزانہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر پہرہ دیں تا کہ شور و شر میں کوئی شخص خزانہ لوٹنے کی کوشش نہ کرے۔واقعاتِ شہادت حضرت عثمان غرض جب یہ لوگ اندر پہنچے تو حضرت عثمان کو۔قرآن کریم پڑھتے پایا۔ان پر حملہ آوروں میں محمد بن ابی بکر بھی تھے اور بوجہ اپنے اقتدار کے جو ان لوگوں پر ان کو حاصل تھا اپنا فرض سمجھتے تھے کہ ہر ایک کام میں آگے ہوں۔چنانچہ انہوں نے بڑھ کر حضرت عثمان کی ڈاڑھی پکڑ لی اور زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے ان کے اس فعل پر صرف اس قدر فر مایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ (حضرت ابوبکر ) اس وقت ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا۔تجھے کیا ہوا تو خدا کے لئے مجھ پر ناراض ہے۔کیا اس کے سوا تجھے مجھ پر کوئی غصہ ہے کہ تجھ سے میں نے خدا کے حقوق ادا کروائے ہیں؟ اس پر محمد بن ابی بکر شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گئے۔لیکن دوسرے شخص وہیں رہے اور چونکہ اس رات بصرہ کے لشکر کی مدینہ میں داخل ہو جانے کی یقینی خبر آچکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لئے آخری موقع تھا ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کئے واپس نہ لوٹیں گے اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور