خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 326
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۶ جلد اول وقت تک کہ خدا تعالیٰ میرے متعلق کوئی فیصلہ فرمادے میں باہر نہیں نکلوں گا اور میں کسی کو کوئی ایسا اختیار نہیں دے جاؤں گا کہ جس کے ذریعہ سے دین یا دنیا میں وہ تم پر حکومت کرے۔اور اس امر کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں گا کہ وہ جسے چاہے اپنے کام کے لئے پسند کرے۔اس کے بعد صحابہ و دیگر اہل مدینہ کوقتم دی کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرہ عظیم میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں کو چلے جاویں۔آپ کے اس حکم نے صحابہ میں ایک بہت بڑا اختلاف پیدا کر دیا۔ایسا اختلاف کہ جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔صحابہ حکم ماننے کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہ تھے۔مگر آج اس حکم کے ماننے میں ان میں سے بعض کو اطاعت نہیں غداری کی بُو نظر آتی تھی۔بعض صحابہ نے تو اطاعت کے پہلو کو مقدم سمجھ کر بادلِ نا خواستہ آئندہ کے لئے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اور غالباً انہوں نے سمجھا کہ ہمارا کام صرف اطاعت ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس حکم پر عمل کرنے کے کیا نتائج ہوں گے۔مگر بعض صحابہ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بے شک خلیفہ کی اطاعت فرض ہے مگر جب خلیفہ یہ حکم دے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ تو اس کے یہ معنے ہیں کہ خلافت سے وابستگی چھوڑ دو۔پس یہ اطاعت در حقیقت بغاوت پیدا کرتی ہے۔اور وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت عثمان کا ان کو گھروں کو واپس کرنا ان کی جانوں کی حفاظت کیلئے تھا تو پھر کیا وہ ایسے محبت کرنے والے وجود کو خطرہ میں چھوڑ کر اپنے گھروں میں جاسکتے تھے !! اس مؤخر الذکر گروہ میں سب اکابر صحابہ شامل تھے۔چنانچہ باوجود اس حکم کے حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر کے لڑکوں نے اپنے اپنے والد کے حکم کے ماتحت حضرت عثمان کی ڈیوڑھی پر ہی ڈیرہ جمائے رکھا اور اپنی تلواروں کو میانوں میں نہ داخل کیا۔حاجیوں کی واپسی پر باغیوں کی گھبراہٹ باغیوں کی گھبراہٹ اور جوش کی کوئی حد باقی نہ رہی جب کہ حج سے فارغ ہو کر آنے والے لوگوں میں اکے ڈ کے مدینہ میں داخل ہونے لگے اور ان کو معلوم ہو گیا کہ اب ہماری قسمت کے فیصلہ کا وقت بہت نزدیک ہے۔چنانچہ مغیرہ بن الاخنس سب