خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 323
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۳ جلد اول زور نہ دیتے تھے۔اُس وقت کے حالات سے حضرت عثمان کی اسلامی خیر خواہی پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تین ہزار کے قریب لشکر آپ کے دروازہ کے سامنے پڑا ہے اور کوئی تدبیر اس سے بچنے کی نہیں مگر جو لوگ آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اُن کو بھی آپ روکتے ہیں کہ جاؤ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو۔ان لوگوں کو صرف مجھ سے عداوت ہے تم سے کوئی تعرض نہیں۔آپ کی آنکھ اُس وقت کو دیکھ رہی تھی جب کہ اسلام ان مفسدوں کے ہاتھوں سے ایک بہت بڑے خطرہ میں ہوگا اور صرف ظاہری اتحاد ہی نہیں بلکہ روحانی انتظام بھی پراگندہ ہونے کے قریب ہو جاوے گا۔اور آپ جانتے تھے کہ اُس وقت اسلام کی حفاظت اور اس کے قیام کے لئے ایک ایک صحابی کی ضرورت ہوگی۔پس آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی جان بچانے کی بے فائدہ کوشش میں صحابہ کی جانیں جاویں اور سب کو یہی نصیحت کرتے تھے کہ ان لوگوں سے تعرض نہ کرو اور چاہتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے آئندہ فتنوں کو دور کرنے کے لئے وہ جماعت محفوظ رہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔مگر باوجود آپ کے سمجھانے کے جن صحابہ کو آپ کے گھر تک پہنچنے کا موقع مل جاتا وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتا ہی نہ کرتے اور آئندہ کے خطرات پر موجودہ خطرہ کو مقدم رکھتے۔اور اگر ان کی جانیں اس عرصہ میں محفوظ تھیں تو صرف اس لئے کہ ان لوگوں کو جلدی کی کوئی ضرورت نہ معلوم ہوتی تھی اور بہانہ کی تلاش تھی۔لیکن وہ وقت بھی آخر آگیا جب کہ زیادہ انتظار کرنا ناممکن ہو گیا۔کیونکہ حضرت عثمان کا دل کو ہلا دینے والا پیغام جو آپ نے حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں کو بھیجا تھا حجاج کے مجمع میں سنایا گیا تھا اور وادی مکہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی آواز سے گونج رہی تھی اور حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ حج کے بعد جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہ رہیں گے اور مصری مفسدوں اور ان کے ساتھیوں کا قلع قمع کر کے چھوڑیں گے۔مفسدوں کے جاسوسوں نے انہیں اس ارادہ کی اطلاع دے دی تھی اور اب ان کے کیمپ میں سخت گھبراہٹ کے آثار تھے۔حتی کہ ان میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اب اس شخص کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اگر اسے ہم نے قتل نہ کیا تو مسلمانوں کے ہاتھوں سے